ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

300 پیزا آرڈر کرنے والا ملزم کیوں پکڑا گیا؟ عجیب واردات

وارسا : پولینڈ میں اپنی نوعیت کی عجیب واردات سامنے آئی ہے، 300 پیزا آرڈر دینے والے نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا، عدالت 8 سال قید کی سزا سنا سکتی ہے، ملزم جعلی آٓڈرز دے کر لوگوں کو پریشان کرتا تھا۔

پولیس نے ایک 23 سالہ شخص کو مبینہ طور پر لوگوں کو ہراساں کرنے، تعاقب کرنے، شناخت کے غلط استعمال اور ریسٹورنٹس کو بھاری مالی نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملزم پر الزام تھا کہ وہ مختلف لوگوں کے نام اور پتے پر کھانے کے سیکڑوں آرڈرز دیتا تھا ، اس نے رقم کی ادائیگی ڈیلیوری کے وقت کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔

اس دھوکے کے نتیجے میں متاثرہ افراد کے گھروں پر ایسے کھانے پہنچتے رہے جو انہوں نے منگوائے ہی نہیں تھے۔

تحقیقات کے مطابق ایک آرڈر کی مالیت تقریباً 7 ہزار 350 پاؤنڈ تھی جبکہ ایک موقع پر مبینہ طور پر 300 پیزوں کا آرڈر بھی دیا گیا، تاہم اتنی بڑی مقدار میں پیزا مقررہ وقت میں تیار کرنا ممکن نہ ہونے کے باعث ریسٹورنٹ نے آرڈر مسترد کردیا۔

دوسری جانب بعض کاروباری ادارے ایسے آرڈرز کی وجہ سے مالی نقصان سے دوچار ہوئے کیونکہ ڈیلیوری کے وقت وصول کنندگان نے ادائیگی سے انکار کردیا۔

پولیس کے مطابق معاملہ صرف جعلی فوڈ آرڈرز تک محدود نہیں تھا، بعض ڈیلیوری نوٹس میں مبینہ طور پر متاثرہ افراد کے بارے میں ایسی ذاتی معلومات شامل تھیں جو عام طور پر صرف متعلقہ شخص یا اس کے قریبی لوگوں کے علم میں ہوسکتی تھیں۔

پولینڈ کے سائبر کرائم بیورو اور مقامی پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اس مشتبہ شخص کو اس کے گھر سے گرفتار کیا۔ اس دوران دوران گھر نسے الیکٹرانک آلات اور ممکنہ طور پر آرڈرز دینے کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا اسٹوریج آلات بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

مشتبہ شخص کو تحقیقات مکمل ہونے تک دو ماہ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے، حکام نے تاحال اس کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی مبینہ کارروائیوں کے محرکات سامنے آسکے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم تاحال مجرم قرار نہیں پایا اور مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہونا باقی ہے۔ اگر تحقیقات میں زیرِ غور الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو اسے زیادہ سے زیادہ 8 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں