پاکستان تحریک انصاف نے لکی مروت سے صوابی تک لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا اعلان کردیا، فی الحال اسلام آباد جانے کا کوئی پلان نہیں دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لکی مروت کے لیے روانہ ہوگئے جہاں سے وہ لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ لکی مروت روانہ ہوگا جس کیلئے الامین ہاؤس کے باہر درجنوں گاڑیاں پہنچ گئی ہیں۔
علی امین گنداپور کے ترجمان فراز احمد مغل کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ میں شرکت کیلئے ہزاروں کارکنان قافلے کا حصہ بن رہے ہیں، علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں لکی مروت روانہ ہوں گے، قافلے میں فیصل آمین گنڈاپور، عمر امین گنڈاپور اور دیگر پارٹی عہدیداران بھی شریک ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ٹوئٹ کے مطابق لانگ مارچک کا پہلا مرحلہ آج 4 اکتوبر سہ پہر ایک بجے لکی مروت کے گنڈی چوک سے ہوگا جہاں مختلف اضلاع سے آنے والے قافلے شریک ہوں گے۔
علی امین گنڈاپور نے لانگ مارچ کے آغاز سے قبل کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پرامن احتجاج اور پرامن آئینی تحریک کو آگے بڑھائیں گے، اسلام آباد جانا ہے یا نہیں یہ فیصلہ قیادت کرے گی، جو حکم ہوگا ہم اس پر عمل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب نے واضح کہا ہے کہ ڈنڈا لانے والا شخص ہم میں سے نہیں، کوئی کارکن ڈنڈا نہیں لائے گا، فی الحال یہی حکم ہے، آگے کے احکامات کے مطابق سب ہوگا، کوئی کارکن پتھراؤ نہیں کرے گا، یہ واضح حکم ہے، جو شخص تصادم کرے گا یا قانون ہاتھ میں لے گا وہ ہم میں سے نہیں۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات…
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) October 3, 2026
اعلان کے مطابق اتوار 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے قافلے گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے جبکہ رات قیام کرک کے قریب کیا جائے گا۔
پیر 5 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کرک کے عوام بھی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے اور قافلہ ساڑھے 12 بجے وہاں سے روانہ ہو کر رات کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔
منگل 6 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے قافلے شریک ہوں گے۔ کوہاٹ سے قافلہ پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور رات پشاور کے متنی کے قریب قیام کیا جائے گا۔
بدھ 7 اکتوبر کو پشاور کے بڈھ بیر سے دوپہر ساڑھے 12 بجے قافلہ روانہ ہوگا، جہاں خیبر ضلع کے عوام بھی لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔ پشاور کے دیگر حلقوں کے قافلے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازہ پر مارچ کا حصہ بنیں گے، جبکہ رات چارسدہ انٹرچینج کے قریب قیام ہوگا۔
جمعرات 8 اکتوبر کو دوپہر ساڑھے 12 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی، جہاں چارسدہ اور مہمند کے قافلے شامل ہوں گے۔
اعلان کے مطابق 8 اکتوبر کو خیبرپختونخوا بھر کے عوام خیرآباد میں جمع ہوں گے اور وہیں رات قیام کریں گے۔ لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان بھی خیرآباد میں کیا جائے گا۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ لانگ مارچ کے لئے سیکورٹی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، جس جس ضلع میں قافلہ جائے گا وہاں ایس او پیز کے تحت سیکورٹی آرڈر جاری ہوگا۔
پولیس حکام کے مطابق اہلکار امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سیکورٹی پلان کے تحت تعینات کیے جائیں گے، ڈرونز اور سرویلنس کیمروں سے بھی سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا، امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر مارچ کے روٹس پر پولیس گشت بڑھایا دیا گیا ہے۔
اٹک پل پر کار سرکار میں مداخلت پر کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج
پنجاب پولیس نے نوشہرہ خیر آباد پل پر رکاوٹیں ہٹانے والے 250 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد کی گرفتاری کے لئے پنجاب پولیس نے چھاپے مارے ہیں۔
جہانگیرہ نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔