(18 ستمبر 2026): مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ایک نیا ایجنٹ ’ڈوبی‘ ایسے مستقبل کی ایک جھلک دکھا رہا ہے جہاں موبائل فون کی ایپس غیر ضروری ہو سکتی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف اے آئی محقق آندرے کارپاٹھی کا اے آئی ایجنٹ ڈوبی سادہ احکامات کے ذریعے کام انجام دے کر ایپس کے بکھرے ہوئے نظام کو تبدیل کرنے کیلیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
آندرے کارپاٹھی نے انکشاف کیا کہ یہ اے آئی ایجنٹ ان کے گھر میں جڑے ہوئے مختلف سسٹمز کو کنٹرول کر سکتا ہے جن میں موسیقی، لائٹنگ اور سکیورٹی شامل ہیں، اور اس کیلیے صارفین کو متعدد مختلف ایپس کے درمیان سوئچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
یہ بھی پڑھیں:
اس کے بجائے ڈوبی براہ راست آلات کے ساتھ بات چیت کرتا ہے، خود مختار طور پر انہیں تلاش کرتا اور ان کا انتظام سنبھالتا ہے۔ یہ نظام مقامی نیٹ ورکس کو اسکین کر کے، جڑے ہوئے آلات کی شناخت کر کے، اور احکامات پر عملدرآمد کیلیے غیر دستاویزی تک رسائی حاصل کر کے کام کرتا ہے۔
یہ خصوصیت اسے ایسے کاموں کیلیے ایک واحد اور مشترکہ انٹرفیس کے طور پر کام کرنے کے قابل بناتی ہے جن کیلیے عام طور پر کئی مختلف ایپس کی ضرورت ہوتی ہے۔
آندرے کارپاٹھی کے مطابق مستقبل میں ایپس کے انٹرفیس کے ذریعے نیویگیٹ کرنے کے بجائے صارفین بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے کام انجام دینے کیلیے گفتگو کرنے والے اے آئی ایجنٹس پر بھروسہ کر سکیں گے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جس کام کیلیے پہلے متعدد ایپس کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی تھی، اب وہ ایک واحد اے آئی انٹرفیس کے ذریعے سنبھالا جا سکتا ہے۔
ڈوبی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے سیٹ اپ کرنے اور چلانے کیلیے گہری تکنیکی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تصور اے آئی کی ترقی میں ایک بڑھتے ہوئے رجحان کی نشان دہی کرتا ہے جو کہ خود مختار ایجنٹس کا عروج ہے جو ڈیجیٹل تعاملات کو آسان بنانے اور روایتی سافٹ ویئر پلیٹ فارمز پر انحصار کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔