ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بند اسٹیل ملز سے 3 سال میں 79 ارب کا نقصان

اعداد و شمار جاری، قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا، برآمدات بھی متاثر ہوئیں

September 22, 2026 · اہم خبریں

بند پاکستان اسٹیل ملز کا فضائی منظر اور معاشی اعداد و شمار

بند پاکستان اسٹیل ملز کا فضائی منظر اور معاشی اعداد و شمار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بند پاکستان اسٹیل ملز نے گزشتہ 3 مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 79.3 ارب روپے کا نقصان اٹھایا ہے جس میں سے تقریباً 57.4 ارب روپے، یعنی 72 فیصد، ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہوئے۔ وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اسٹیل ملز کا نقصان 24 ارب روپے رہا، حالانکہ یہ صنعتی یونٹ جون 2015 سے بند ہے۔

وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 تک اسٹیل ملز پر 108 ارب روپے کا کیش ڈویلپمنٹ لون واجب الادا تھا جس پر تقریباً 11.5 ارب روپے سالانہ سود عائد کیا جا رہا تھا جبکہ اس کے علاوہ مل پر 40 ارب روپے سے زائد بینک قرضے بھی تھے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مل کے غیر فعال ہونے کے باوجود قرضوں پر سود مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے یہ ادارہ حکومت کے لیے مستقل مالی بوجھ بن چکا ہے۔

دریں اثنا، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں جس کے باعث گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ملکی برآمدات میں 1 ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کا مجموعی برآمدی حجم 30 ارب 80 کروڑ ڈالر رہ گیا جبکہ چاول، ٹیکسٹائل اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔

دوسری جانب، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق بطور وزیراعظم شہباز شریف کے دونوں ادوار میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں پونے 4 سال کے دوران 37 ہزار 307 ارب روپے کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ شہباز شریف کے پہلے دور میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 764 ارب روپے جبکہ موجودہ حکومت کے ابتدائی مہینوں میں 18 ہزار 543 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں