اننت ناگ/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور بی جے پی رہنما سنیل شرما نے کہا ہے کہ اگر حکومت کے پاس فیصلے لینے کا اختیار نہیں ہے تو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اسمبلی تحلیل کر دینی چاہیے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس فیصلے لینے کا اختیار نہیں اور وہ صرف تنخواہیں لینے تک محدود ہے تو بہتر ہوگا کہ عمر عبداللہ فیصلہ لے کر اسمبلی تحلیل کر دیں تاکہ سب لوگ سکون سے بیٹھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال ہونے کے بعد نئے انتخابات کرانا ہوں گے، کیونکہ موجودہ آئینی انتظام یونین ٹیریٹری کا ہے۔
شرما نے کہا، ’’جب بھی ریاست کا درجہ بحال ہوگا، ریاست میں نئے انتخابات ہوں گے۔ اگر آج ریاست کا درجہ بحال ہوتا ہے تو انتخابات کرانا ضروری ہوگا، کیونکہ نیا آئینی انتظام ریاست کا ہوگا۔ موجودہ انتظام کے تحت ہونے والے انتخابات یونین ٹیریٹری کے لیے تھے۔‘‘انہوں نے عمر عبداللہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر انتخابات کے لیے انتظار کرنا ہے تو پھر عمر عبداللہ اس وقت تک کیا کرنے آئے ہیں؟ کیا وہ صرف لطف اٹھانے یا بادشاہوں کی طرح رہنے آئے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ عوام کو کیوں گمراہ کیا جا رہا ہے؟
آرٹیکل 370 کے حوالے سے سنیل شرما نے کہا کہ اس سے متعلق فیصلہ صرف بی جے پی نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس دن نیشنل کانفرنس پارلیمنٹ میں 275 نشستیں حاصل کر لے، اس دن اس معاملے پر بات کرے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرتی رہے گی اور عوام کے مسائل کو اجاگر کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی حیثیت سے عوام کی آواز بننا ان کی ذمہ داری ہے کیونکہ حکومت عوام کی بات نہیں سن رہی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ووٹ ملے یا نہ ملے، اپنا کام جاری رکھے گی۔شرما نے کہا کہ وہ حکومت گرانے یا ووٹ مانگنے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومتیں عوام بناتے ہیں۔
ضروری محکموں، بشمول پی ڈی ڈی، پی ڈبلیو ڈی اور پی ایچ سی میں احتجاج کرنے والے ڈیلی ویجرز کے معاملے پر سنیل شرما نے حکومت سے بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے مطالبات ابھی تک تسلیم نہیں کیے گئے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مذاکرات کے لیے پہل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے ڈیلی ویجرز سے بھی کہا کہ اگر حکومت بات چیت پر آمادہ ہوتی ہے تو وہ ہڑتال ختم کر دیں۔
کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کے معاملے پر سنیل شرما نے کہا کہ پوسٹروں یا دھمکیوں سے کشمیری پنڈتوں کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہر رہائشی کا ہے، جس میں کشمیری پنڈت بھی شامل ہیں، اور یہ ایسا وقت نہیں جب کسی کو لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔