ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کا نئے منتخب پولیس افسران سے خطاب ،کہا تقرری نامہ محض سرکاری دستاویز نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی خدمت کا عہد ہے

سری نگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو لوک بھون سری نگر میں جموں و کشمیر پولیس (گزیٹیڈ) سروسز کے لیے نئے منتخب امیدواروں میں تقرری نامے تقسیم کیے اور کہا کہ یہ تقرری محض سرکاری ملازمت نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کی خدمت اور ان کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرنے کا عہد ہے۔نئے منتخب افسران سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی سنہا نے کہا کہ تقرری نامہ دراصل پورے جموں و کشمیر کے عوام کے اعتماد کی ذمہ داری اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خط سکیورٹی، وقار اور عوام کے مستقبل کے تحفظ کے عزم کی علامت ہے۔
سنہا نے کہا کہ نئے افسران ایک ایسے سفر کا آغاز کر رہے ہیں جس میں ذاتی کامیابی کے بجائے دوسروں کے تحفظ، عوام کی خدمت اور قانون کی بالادستی کو ترجیح دینا ہوگی۔انہوں نے منتخب امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک سخت انتخابی عمل کامیابی سے مکمل کیا، جس میں ذہانت، صبر، کردار، نظم و ضبط اور مشکل حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت کو پرکھا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران کمیشن نے اپنی بھرتی کے عمل میں غیر جانب داری، شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کو مضبوط کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اب سرکاری ملازمت سفارش کے بجائے قابلیت، محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر حاصل کرنے کا رجحان مضبوط ہوا ہے۔
سنہا نے 2022 کے جموں و کشمیر ایمپلائمنٹ فیسٹیول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لوگوں نے یہ یقین محسوس کیا کہ عام اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچے بھی سرکاری افسر بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج جموں و کشمیر میں ایک سبزی فروش کا بیٹا بھی کے اے ایس افسر بننے کا خواب دیکھ سکتا ہے اور اسے اپنی قابلیت اور محنت کی بنیاد پر حاصل کرسکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نئے افسران سے کہا کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد ان کی ذمہ داری محض ایک کیریئر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک مشن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی وردی پر موجود بیج جموں و کشمیر کے عوام پر طاقت کی علامت نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ذمہ داری کی علامت ہونا چاہیے۔سنہا نے کہا کہ نظم و ضبط، محنت، سخت تربیت اور قیادت ان افسران کی پیشہ ورانہ زندگی کا لازمی حصہ بنیں گے۔
ایل جی سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کا سکیورٹی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور دہشت گردی اب روایتی طریقوں تک محدود نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ ورچوئل دنیا کے بڑھتے اثرات، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے بدلتے طریقہ کار پولیس کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے طریقے بھی تبدیل ہوئے ہیں اور کرپٹو کرنسی، منی لانڈرنگ اور دیگر جدید ذرائع کے استعمال نے سکیورٹی اداروں کے سامنے نئے چیلنجز کھڑے کیے ہیں۔
نئے افسران سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی نے کہا کہ خاکی وردی پہننے کے بعد وہ دہشت گرد تنظیموں اور عام شہریوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار کی حیثیت اختیار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہر شہری کے خوابوں اور زندگی کے تحفظ کی ذمہ داری پولیس افسران پر عائد ہوتی ہے اور یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے۔سنہا نے جموں و کشمیر پولیس کے جوانوں کی قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے نئے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے سینئرز کے تجربات، قیادت اور قربانیوں سے سیکھیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ پولیس افسران کی ذمہ داری صرف دہشت گردی سے نمٹنے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ قانون کی پاسداری، شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنا بھی ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہری کا تحفظ کس حد تک یقینی بناتی ہے۔سنہا نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے اختیار کے ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی شامل کریں تاکہ ان کے ہر اقدام میں عوام کے لیے ہمدردی اور انصاف کا جذبہ موجود ہو۔انہوں نے جموں و کشمیر پولیس کے دیرینہ اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’بے گناہ کو ہاتھ نہ لگاؤ اور مجرم کو نہ چھوڑو۔‘‘
ایل جی سنہا نے نئے منتخب افسران سے کہا کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، انہیں ہمیشہ سچائی اور فرض کو ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی وردی کا احترام صرف وردی کی وجہ سے نہیں بلکہ اسے پہننے والے افسر کی دیانت داری، حوصلے اور عزم کی وجہ سے ہوتا ہے۔انہوں نے افسران کو دیانت داری، بہادری اور عاجزی کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقرری جموں و کشمیر کے عوام کی امیدوں اور خواہشات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
آخر میں لیفٹیننٹ گورنر نے نئے افسران کے والدین اور رشتہ داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا اور ان کے خوابوں کو اپنا خواب سمجھ کر پورا کرنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور جموں و کشمیر ان خاندانوں کی اس خدمت کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں