راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، اس حوالے سے تحریک انصاف راولپنڈی کے جنرل سیکریٹری عاقل خان کو بھی باضابطہ طور پر فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے جلسے کے لیے این او سی کی درخواست مسترد کیے جانے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، موجودہ امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا، جس میں ممکنہ خطرات اور عوامی اجتماعات میں شرکت کرنے والوں کی جان و مال کے تحفظ کو مدنظر رکھا گیا۔
حکام کے مطابق شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے، جس کے تحت بڑے اجتماعات پر پابندی عائد ہے، لیاقت باغ میں کسی بھی بڑے جلسے کے انعقاد کے لیے وسیع پیمانے پر سیکیورٹی انتظامات درکار ہوتے ہیں، حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے تحت اتنے بڑے پیمانے پر وسائل کی فراہمی ممکن نہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں کہا کہ موجودہ حالات میں جلسے کے لیے درکار انتظامی، مالی اور حفاظتی تقاضوں کو پورا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، اسی لیے کمیٹی کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں اجازت دینے سے گریز کیا گیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن سیاسی اجتماع ہر جماعت کا آئینی حق ہے، 9 اپریل کو لیاقت باغ میں جلسے کے لیے دی گئی درخواست کو بلاجواز مسترد کیا گیا جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
تحریک انصاف راولپنڈی کے ضلعی صدر عاقل خان نے کہا کہ انہیں انتظامیہ کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے، پارٹی اپنے آئینی حق کے لیے قانونی اور سیاسی آپشنز پر غور کرے گی۔
مزید برآں ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت باغ کے نگران ادارے نے بھی جلسے کی مخالفت کی ہے، لیاقت باغ اب ایک تفریحی پارک کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں بڑے اجتماعات کے انعقاد سے پودوں اور ماحول کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔