بیروت: جنوبی لبنان میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی جہاں حزب اللہ کے مجاہدوں کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والا ایک اسرائیلی فوجی دم توڑ گیا جبکہ ایک صیہونی حملے میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوگیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی ایک ٹیم سیکیورٹی آپریشن کے لیے جنوبی لبنان کے ایک دیہی علاقے میں داخل ہوئی تھی جہاں ان کا سامنا حزب اللہ کے جنگجوؤں سے ہوگیا۔ اس دوران ہونے والی شدید جھڑپوں میں چار اسرائیلی اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق زخمی ہونے والے اہلکاروں میں 48 سالہ فوجی باراک کالفون بھی شامل تھا، جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج ہلاک ہوگیا۔ دیگر تین اہلکاروں کی حالت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق یہ ٹیم سرحدی علاقے میں واقع عمارتوں کی تلاشی اور کلیئرنس آپریشن میں مصروف تھی کہ اسی دوران گھات لگائے حملہ آوروں نے انہیں نشانہ بنایا، جیسے ہی فوجی ایک عمارت میں داخل ہوئے تو زور دار دھماکا ہوا، جو ممکنہ طور پر زیر زمین نصب بارودی سرنگ کا نتیجہ تھا۔
دوسری جانب اسی روز جنوبی لبنان میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے وابستہ ایک اہلکار ہلاک ہوگیا، ہلاک ہونے والے اہلکار کا تعلق فرانس سے تھا جبکہ اس حملے میں مزید تین اہلکار زخمی ہوئے۔
تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی تاہم علاقے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال نہایت حساس بتائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حال ہی میں 10 روزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہوگئی تھی،تازہ جھڑپوں نے اس جنگ بندی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور خطے میں امن کی کوششوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔