ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

 ایران پر ناکہ بندی مزید سخت، نیا بحری بیڑا بھی تعینات ہوگا، امریکی وزیر دفاع کا جارحانہ رویہ برقرار

واشنگٹن: جنگ بندی کے باوجودامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ہٹ دھرمی اور جارحانہ رویہ برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے  کہ ایران پر ناکہ بندی مزید سخت کردی گئی ہے، نیا بحری بیڑا بھی جلد تعینات ہوگا۔

امریکی وزیر دفاع نے پینٹاگون میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کے ساتھ کشیدگی اور خلیجی خطے کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری حکمتِ عملی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہر صورت روکا جائے گا، امریکی اقدامات دنیا کے لیے  تحفہ  ہیں اور ایران پر دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔

پیٹ ہیگستھ نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ملک ہے جس نے اپنے ہی اندرونی مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں کیں اور ہزاروں افراد کی جانیں لیں، ان دعوؤں کے حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر صورتحال پر امریکی اثر و رسوخ موجود ہے اور وہاں سے بحری جہاز اب امریکی شرائط کے تحت ہی گزر سکیں گے، خطے میں ناکہ بندی کی کیفیت برقرار ہے اور مزید سختی کے لیے اضافی بحری بیڑا بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی ک  ے لیے امریکی افواج مکمل طور پر تیار ہیں04، ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی اور دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی ہے، ایران کی جانب سے قبضے میں لیے گئے دو جہاز غیر متعلقہ اور عام نوعیت کے تھے۔

آخر میں امریکی وزیر دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ جنگ صرف امریکہ کی نہیں بلکہ بین الاقوامی نوعیت کی صورتحال ہے اور ایشیائی و یورپی ممالک کو بھی اس خطے سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے، اس لیے انہیں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں