امریکہ اور نیٹو اتحادی جرمنی کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے بعد واشنگٹن نے جرمنی میں تعینات اپنے ہزاروں فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں 5000 اہلکاروں کو واپس بلایا جائے گا۔
پینٹاگون کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی قیادت کے درمیان ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر جرمن قیادت اور امریکی پالیسیوں کے درمیان اختلافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران سے متعلق سفارتی کوششوں کے دوران واشنگٹن کے کردار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بعض مواقع پر امریکا کو غیر منصفانہ رویے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے بقول ایسے رویے سے اتحادی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
پینٹاگون کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ جرمن بیانات کو واشنگٹن میں غیر مناسب اور غیر معاون قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد امریکی صدر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ متضاد اور غیر واضح بیانات مشترکہ حکمت عملی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اعلان کے مطابق جرمنی سے امریکی افواج کی واپسی کا عمل فوری نہیں بلکہ مرحلہ وار ہوگا، جسے آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں واضح کمی آئے گی، جہاں اس وقت تقریباً 35000 فعال اہلکار موجود ہیں، جو یورپ میں امریکی فوج کی سب سے بڑی موجودگی تصور کی جاتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی اتحاد پہلے ہی مختلف بین الاقوامی تنازعات اور خارجہ پالیسی کے اختلافات کے باعث دباؤ کا شکار دکھائی دیتا ہے، اور اس فیصلے کو خطے میں امریکی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔