ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شوہر حق مہر کے ساتھ معاہدے میں درج چیزیں دینے کا بھی پابند ہے: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم خاندانی مقدمے میں قرار دیا ہے کہ اگر شادی کے موقع پر میاں بیوی کے درمیان حق مہر کے علاوہ کسی اضافی جائیداد یا سہولت سے متعلق الگ معاہدہ طے پایا ہو تو شوہر اس پر عمل درآمد کا پابند ہوگا اور اسے محض وعدہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتِ عالیہ نے 5 مرلے کے گھر کی منتقلی سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی جانب سے دائر درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے مقدمے کا تفصیلی 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں خاندانی معاملات اور خواتین کے قانونی حقوق سے متعلق اہم نکات واضح کیے گئے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ شادی کے روز فریقین کے درمیان ایک علیحدہ تحریری معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت شوہر نے بیوی کو 5 مرلے کا گھر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے معاہدوں کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور ان پر عمل درآمد لازم ہے۔

حکم نامے میں حق مہر کی قانونی اور شرعی اہمیت پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ حق مہر بیوی کا مسلمہ قانونی حق ہے اور اسے شوہر کی جانب سے کسی احسان یا رضاکارانہ عنایت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ قانون کی نظر میں حق مہر شوہر پر واجب الادا قرض کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی ادائیگی لازم ہے۔

عدالت نے یہ مؤقف بھی مسترد کیا کہ اگر خاتون نے دورانِ ازدواج حق مہر کا مطالبہ نہیں کیا تو اسے اپنے حق سے دستبردار تصور کیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ معاشرتی روایات، گھریلو دباؤ اور خاندانی حالات کے باعث بہت سی خواتین اپنے حقوق کا فوری مطالبہ نہیں کرتیں، تاہم اس بنیاد پر ان کا قانونی حق ختم نہیں ہوتا۔

تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حق مہر زبانی یا تحریری صورت میں طے کیا جا سکتا ہے اور اگر نکاح کے وقت اس کی مکمل تفصیلات طے نہ ہوں تو بعد میں بھی اس کا تعین ممکن ہے۔ اسلامی قوانین شوہر کو شادی کے بعد حق مہر میں اضافہ کرنے کی بھی اجازت دیتے ہیں، لہٰذا اس حوالے سے طے پانے والے معاہدات کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا کہ خاندانی نوعیت کے مقدمات میں عدالتیں صرف قانونی موشگافیوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرتی حقائق، خاندانی ماحول اور فریقین کے حالات کو بھی پیشِ نظر رکھتی ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے مکمل طور پر پورے کیے جا سکیں۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں