اہم عوامی منصوبہ، لاگت 1.6 ارب روپے، 4 اکتوبر کے مارچ کیلئے کنٹینر تیار۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس کے افتتاحی موقع پر موجود ہیں۔
پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے 1.6 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب ایک بڑے عوامی جلسے کی شکل اختیار کر گئی جس میں صوبائی صدر جنید اکبر، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، صوبائی وزراء مینا خان آفریدی، شفیع جان، میاں عمر، عدیل اقبال، پشاور کے منتخب اراکین اسمبلی، پارٹی قیادت اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سرکاری دستاویزات اور رپورٹس کے مطابق یہ اہم ترقیاتی منصوبہ صرف 90 روز کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔ انڈر پاس کی مجموعی لمبائی 500 میٹر جبکہ اس کا بیرل 130 میٹر طویل ہے۔ اس منصوبے میں 665 پائلز اور 2 لین پر مشتمل انڈر پاس شامل ہے، جو ڈی ٹور روڈ یعنی باڑہ سائیڈ سے رنگ روڈ کی جانب ٹریفک کی روانی کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے حیات آباد اور ملحقہ علاقوں کے شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات سے نجات ملے گی اور روزمرہ ٹریفک کے مسائل میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔
افتتاحی تقریب کے دوران ایک اور اہم سیاسی منظر نامہ بھی سامنے آیا جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے متوقع مارچ کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے کنٹینر میں سوار ہو کر تقریب گاہ پہنچے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء مینا خان اور شفیع جان سمیت دیگر اہم رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ کنٹینر 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب روانگی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دریں اثنا، پی ٹی آئی نے طویل مارچ کے لیے مالی معاونت حاصل کرنے کی خاطر چندہ مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وزیراعلیٰ جمعے کے روز شام 4 بجے پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں خود موجود رہ کر چندہ اکٹھا کریں گے۔