ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پنجاب میں اسموگ کے تدارک کیلئے کریک ڈاؤن، سینکڑوں صنعتی یونٹس اور بھٹے سیل

ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کارروائیاں، ڈرون اسکواڈ متحرک، لاکھوں کسانوں کی تربیت مکمل۔

September 30, 2026 · اہم خبریں

پنجاب میں اسموگ کی روک تھام کے لیے ماحولیاتی ٹیموں کی کارروائیاں اور ڈرون مانیٹرنگ جاری ہے۔

پنجاب میں اسموگ کی روک تھام کے لیے ماحولیاتی ٹیموں کی کارروائیاں اور ڈرون مانیٹرنگ جاری ہے۔

لاہور سمیت پنجاب بھر میں اسموگ سیزن سے قبل ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی لگی دی گئی ہے اور مختلف شہروں میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے صنعتی یونٹس اور بھٹوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 158 ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ہوا کی رفتار 2 سے 7 میل فی گھنٹہ اور اس کا رخ جنوب سے شمال اور مشرق کی جانب رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں 269 صنعتی یونٹس کی چیکنگ کی گئی جن میں سے 11 یونٹس کو سیل کر دیا گیا، ایک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ 12 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس دوران انسداد اسموگ مہم کے تحت 431 اینٹوں کے بھٹوں کی جانچ پڑتال کی گئی جن میں سے 5 بھٹے مسمار اور 9 سیل کیے گئے جبکہ 9 مقدمات کا اندراج اور 14 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ غیر معیاری پلاسٹک کے استعمال کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 309 مقامات کی چیکنگ کی گئی، 17 مقامات سیل کیے گئے، ایک ہزار 297 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا اور ایک لاکھ 48 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔

ادارہ تحفظ ماحول پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ نیر شیخ نے تمام فیلڈ ٹیموں کو آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلاتعطل کارروائیاں جاری رکھنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ آلودگی کی نگرانی اور موثر نفاذ کے لیے ڈرون اسکواڈ، نائٹ اسکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ اسکواڈ کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ ریسٹورنٹس اور کمرشل ککنگ پوائنٹس کے خلاف کارروائی کے دوران 245 مقامات چیک کیے گئے، 34 مقامات سیل کیے گئے جبکہ 55 مقامات پر سکشن ہڈز سے متعلق اقدامات یقینی بنائے گئے۔ گردوغبار کی روک تھام کے لیے 1178 کلومیٹر طویل سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا، 44 مقامات پر کھلے تعمیراتی مواد کو ڈھانپنے کے انتظامات کرائے گئے اور روڈ شولڈرز کی مرمت کے 9 اقدامات کیے گئے۔

فصلوں کی باقیات جلانے کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے موٹرویز سے ملحقہ اضلاع میں رات کے وقت ڈرون اور نائٹ اسکواڈز کے ذریعے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس مہم کے تحت اب تک 2 لاکھ 15 ہزار سے زائد کسانوں سے براہ راست رابطہ کیا جا چکا ہے جبکہ 4 لاکھ 31 ہزار سے زائد کسانوں کو ماحول دوست زرعی طریقوں کی تربیت دی جا چکی ہے۔ صوبے میں رائس ایریا کے اندر جدید مشینری کا استعمال بھی بڑھایا جا رہا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے شہریوں اور کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ صاف ہوا، محفوظ ماحول اور بہتر صحت کے حصول کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے انہیں ماحول دوست طریقوں سے تلف کیا جائے جبکہ دھویں اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کسی بھی شکایت کی صورت میں شہری فوری طور پر ہیلپ لائن نمبر 1373 پر اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں