اہم ملاقاتیں، برطانوی ہائی کمشنر اور ورلڈ بینک کے وفد سے تبادلہ خیال، معاشی اصلاحات پر اتفاق
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک مشکل دور، معاشی سکڑاؤ اور استحکام کے مرحلے سے نکل کر درست سمت میں گامزن ہے اور اب ملک استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب منتقل ہو چکا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے دورے کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کی قیادت نجی شعبے کو کرنا ہوگی جبکہ حکومت سازگار کاروباری ماحول، پالیسی فریم ورک اور مؤثر معاونت فراہم کرتی رہے گی۔
وزیرِ خزانہ نے حکومت کی 6 اقتصادی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ میکرو اکنامک استحکام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانا، استحکام سے پیداواریت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار پر مبنی پائیدار ترقی کی جانب بڑھنا، اور مسلسل ساختی اصلاحات جاری رکھنا اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عالمی معاشی روابط کو امداد سے تجارت اور نجی سرمائے کے بہاؤ کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایم ایز، زراعت، ہاؤسنگ اور مالی سہولیات تک محدود رسائی رکھنے والے طبقات کے لیے فنانس تک رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے جبکہ ڈیجیٹلائزیشن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کو نئی معیشت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
مقامی سرمایہ کاری اور سرمائے کی تشکیل کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے پی آئی اے ٹرانزیکشن کا حوالہ دیا جہاں پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس نے باہمی تعاون کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر متحرک کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے بتایا کہ ٹیکس فائلرز کی تعداد 57 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً 39 لاکھ تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر کے اپنا گھر پروگرام کے تحت تقریباً 60 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کی جا چکی ہے جبکہ بینکوں نے مزید خاطر خواہ فنانسنگ کی منظوری دی ہے۔
دریں اثنا، وفاقی وزیر خزانہ سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور ورلڈ بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ برطانوی ہائی کمشنر کے ساتھ ملاقات میں معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ برطانیہ نے پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ اجرا کو سراہا۔ ورلڈ بینک کے وفد کے ساتھ ملاقات میں ترقی، روزگار، مالیاتی انتظام، ریونیو موبلائزیشن، تجارت، سرمایہ کاری اور کیپیٹل مارکیٹس سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مالیاتی و قرضوں کا پائیدار انتظام اور ساختی اصلاحات کا تسلسل ملک کے ساورن کریڈٹ پروفائل کو مزید بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔