سیاسی کشیدگی عروج پر، اسلام آباد میں ریڈ الرٹ، پولیس کی بھاری نفری تعینات
علی امین گنڈاپور کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے جبکہ رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
نظربندی کے بعد اپنے ایک بیان میں علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ پولیس نے انہیں گھر میں نظربند کر دیا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ان کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔
دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی شدید تر ہو گئی ہے۔ سہیل آفریدی کی جانب سے پچھلی صوبائی حکومت میں مارچ کو فکسڈ میچ قرار دیے جانے پر علی امین گنڈاپور شدید برہم نظر آئے اور انہوں نے سہیل آفریدی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ان کے خلاف الزامات کا سلسلہ بند کیا جائے ورنہ وہ سب کو بے نقاب کر دیں گے۔
علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس ہر قسم کا ریکارڈ موجود ہے اور اگر وہ اسے سامنے لائے تو مخالفین منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور پارٹی کی خاطر اب تک خاموشی اختیار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کیسے آئے؟ کس شرط پر آئے؟ اور آپ کو کون لایا ہے؟ آپ ڈیل کر کے آئے ہیں اور اس کا تمام ریکارڈ میرے پاس موجود ہے۔” انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ آپ نے ہی بانی کی ملاقاتیں بند کروائی ہیں اور وہ بشریٰ بی بی کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
دریں اثنا، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد کے تمام چوک چوراہوں اور داخلی راستوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر کے ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ حساس عمارتوں کے باہر رینجرز بھی تعینات ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری گرفتاریوں کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔