ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کولکتہ میں مسلم بستی کی پانی کی فراہمی بند، معاملہ اقوام متحدہ پہنچ گیا

انتخابی انتقام کا نشانہ، رکن پارلیمان کی اپیل، بنیادی حق سلب

October 14, 2026 · اہم خبریں

کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی جہاں پانی کی فراہمی معطل ہے۔

کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی جہاں پانی کی فراہمی معطل ہے۔

بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف تعصب اور سیاسی انتقام کا ایک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی میں مقیم تقریباً 5 ہزار مسلمانوں کی پانی کی سپلائی گزشتہ دو ماہ سے بند کر دی گئی ہے۔ اس سنگین معاملے کو اب بین الاقوامی سطح پر اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے سے رجوع کر لیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نومنتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری نے انتخابی مہم کے دوران اور کامیابی کے بعد مبینہ طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ جن مسلمانوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا، ان کے کوئی کام نہیں کیے جائیں گے اور ان کے خلاف حساب کتاب کا عمل آئندہ 5 برسوں تک جاری رکھا جائے گا۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میونسپلٹی نے مرمت کے بہانے رات کے وقت پانی کی فراہمی معطل کی تھی، جبکہ اس کے برعکس ملحقہ ہندو بستی میں پانی کی ترسیل بدستور جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت سے محرومی کے باعث جیوتی نگر کے باسی ایک کلومیٹر دور سے آلودہ پانی اٹھا کر لانے پر مجبور ہیں جبکہ دیگر ضروریات کے لیے انہیں دریا کے پانی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے مقامی حکام، ریاستی حکومت اور ہائی کورٹ سے کسی قسم کی شنوائی نہ ہونے پر بالآخر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو خط لکھ کر پانی کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پینے کے پانی کی فراہمی ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اسے محض انتظامی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب کولکتہ میونسپل کارپوریشن کی ایڈمنسٹریٹر سمتا پانڈے نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ بستی سرکاری زمین پر قائم ہے اور پانی کی فراہمی متاثر ہونے کی صورت میں ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ دریں اثنا، ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات انسانی حقوق کے عالمی منشور کی روح کے صریحاً منافی ہیں، اور بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی اقلیتوں کے لیے زندگی کو انتہائی دشوار بناتی جا رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں