کابل میں "چائے کے کپ” کے بعد ٹی ٹی پی کو اپنی سرحد کے اندر دہشت گردی کے لیے آزاد چھوڑا گیا۔اسحاق ڈار کا پارلیمنٹ میں خطاب
فائل فوٹو
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا بالواسطہ ذکر بھی لے آئے۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو عروج اس وقت ملا جب کابل میں چائے کا کپ پینے کے بعد ٹی ٹی پی کو دہشت گردی کی اجازت دی گئی۔
35 سے 40 ہزار لوگوں کو لا کر بسایا گیا اور 100 سے زائد ہارڈ کور کریمنلز کو جیلوں سے رہا کیا گیا۔اس سارے معاملے میں پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کا بھی کردار ہے۔کیا قوم اس دہشت گردی کے متحمل ہو سکتی تھی؟
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ گورنر راج نافذ کرنے کے لیے تمام لوازمات موجود تھے۔کابینہ نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے سمری بھیجی اور صدر نے دستخط کئے۔یہ سب کچھ آنکھیں بند کر کے نہیں کیا گیا۔ہم کب تک اپنے جوانوں سویلینز اور بچوں کو اپنی سیاست کے لیے شہید کراتے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی اور کو غیر محب وطن قرار نہیں دیتے، لیکن دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہونے کی ضرورت تھی مگر پی ٹی آئی نے ایسا نہیں کیا۔
کابینہ میں بحث کے دوران بھی یہ بات ہوئی کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی کے لوگ ٹی ٹی پی کا نام لکھنے سے انکاری تھے یہی بات افغان عبوری حکومت چاہتی تھی۔ہر طرح کے شواہد موجود ہیں کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہ پاکستان میں خوں ریزی میں ملوث ہیں جس کے ثبوت کئی فورمز پر پیش کیے جا چکے ہیں۔
گورنر راج کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا ذکر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ فجر کے وقت مولانا نے وزیراعظم سے رابطہ کیا کہ میں آپ کی طرف آنا چاہتا ہوں۔میں بھی پہنچ گیا وزیراعظم نے مولانا سے کہا کہ معاملات بہت آگے نکل چکے ہیں پھر بھی میں کابینہ اجلاس میں بات رکھوں گا۔پھر ڈھائی گھنٹے کی بحث کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی پر اتفاق کیا گیا۔