ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جین-زی طبقہ آج کناٹ پلیس میں نکالے گا ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ، ٹریفک پولیس نے جاری کی ایڈوائزری

جین-زی طبقہ کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کی شام 5 بجے کناٹ پلیس کے سنٹرل پارک میں ترنگا لے کر پہنچیں۔ یہ مارچ خاص طور سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مخالفت میں نکالا جائے گا، جسے ’لہرا دو ترنگا‘ نام دیا گیا ہے۔ اس مارچ کے پیش نظر دہلی پولیس سخت سیکورٹی کا انتظام کیا ہے اور کناٹ پلیس و آس پاس کے علاقوں میں پولیس کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے۔

’لہرا دو ترنگا‘ مارچ میں لوگوں کو شامل ہونے کی اپیل کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس نے بھی عوام کے سامنے ایک خاص گزارش کی ہے۔ کناٹ پلیس اور آس پاس حکم امتناع کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ مارچ میں شامل نہ ہوں۔ پولیس کے مطابق بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ ہیں۔ علاوہ ازیں این ڈی ایم سی نے بھی انتظامی وجوہات سے 16 اور 17 اکتوبر کو سنٹرل پارک بند رکھنے کی جانکاری دی ہے۔

ابھیجیت دپکے اور دہلی پولیس کی اپیل کے درمیان ٹریفک ایڈوائزری بھی جاری کر دی گئی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق سنٹرل دہلی کے کئی اہم راستوں پر آج دوپہر 3 بجے سے ٹریفک بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ دہلی پولیس نے لٹینس دہلی اور کناٹ پلیس کی طرف آنے جانے والے لوگوں کو 21 اہم راستوں سے بچنے اور اپنے سفر کا منصوبہ پہلے سے بنانے کا مشورہ دیا ہے۔

جاری ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق سنسد مارگ، بابا کھڑگ سنگھ مارگ، شہید بھگت سنگھ مارگ، پنچکوئیاں روڈ، بسنت لین، چیمسفورڈ روڈ، منٹو روڈ، باراکھمبا روڈ اور جن پتھ ان اہم راستوں میں شامل ہے، جہاں لوگوں کو ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ متاثر ہونے والے اہم چوک چوراہوں میں ریل بھون، رفیع مارگ، سی ہیکساگن، منڈی ہاؤس، پٹیل چوک، ونڈسر پلیس، گول ڈاک خانہ، کستوربا گاندھی مارگ اور ٹالسٹائے مارگ شامل ہیں۔ اسی طرح رابطے والی سڑکوں اشوک روڈ (جی پی او سے سی ہیکساگن تک)، تلک مارگ اور سکندرا روڈ پر بھی ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں