سرینگر/نیشنل کانفرنس کی کابینہ میں ردوبدل کے حوالے سے جاری تجسس منگل کو اُس وقت ختم ہوگیا جب عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں نیشنل کانفرنس کے چار اراکینِ اسمبلی علی محمد ساگر، شمیمہ فردوس، میر سیف اللہ اور الطاف احمد کلو نے وزراء کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ سرینگر میں واقع لوک بھون میں منعقدہ تقریب کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے چاروں نئے وزراء کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ تقریب میں سینئر سیاسی رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
چار نئے وزراء کی شمولیت سے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی وزارتی کونسل میں نئی تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں۔ تاہم، نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما مبارک گل کو کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا۔لوک بھون کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مبارک گل نے کہا، ’’میں اب تک 30 حلف برداری کی تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں۔ ہر بار مجھے باہر رکھا گیا اور آج بھی مجھے باہر ہی رکھا گیا۔‘‘
دریں اثنا، شمیمہ فردوس نے پارٹی کی جانب سے انہیں دیے گئے موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید محنت اور لگن کے ساتھ عوام کی خدمت جاری رکھیں گی۔میر سیف اللہ نے بھی کابینہ میں شمولیت سے قبل پارٹی قیادت اور اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس کی قیادت اور اللہ تعالیٰ کا اس موقع کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ شمیمہ فردوس کی کابینہ میں شمولیت کو غیر متوقع پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ردوبدل سے قبل ممکنہ وزراء کے حوالے سے سامنے آنے والی قیاس آرائیوں میں ان کا نام نمایاں طور پر شامل نہیں تھا۔ان کی شمولیت کے ساتھ ہی عمر عبداللہ حکومت میں وزارتی عہدوں کے لیے چار خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے سلسلے میں پارٹی کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
Load/Hide Comments