تہران: ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ منگل کو پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ ان سے اکثر سپریم لیڈر کی صحت کے بارے میں سوال ہوتا ہے، اور وہ ارکان کو بتانا چاہتے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قالیباف نے حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر صحت مند، پُرعزم، پُرجوش اور پُرامید دکھائی دیے۔ ان کے بقول خامنہ ای پُرسکون تھے اور بڑے پالیسی معاملات کے ساتھ ساتھ تفصیلات پر بھی گرفت رکھتے تھے۔ یہ بیان قالیباف کے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے؛ ایرانی حکام نے اس کے ساتھ کوئی طبی رپورٹ یا تازہ ویڈیو جاری نہیں کی۔
قالیباف نے اجلاس میں ملاقات کے موضوعات بھی بیان کیے۔ ان کے مطابق گفتگو میں معیشت کے استحکام، پیداوار اور رسد کے تحفظ، عوام کی قوتِ خرید اور روزگار، جنگ کی صورتِ حال، سفارتی مذاکرات اور قومی اتحاد پر بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج اور محاذ پر موجود اہلکاروں کی مدد، تعمیرِ نو، ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ بھی زیرِ بحث آیا۔ قالیباف کے مطابق خامنہ ای نے عوامی خدمات جاری رکھنے، ملک کی مزاحمت مضبوط بنانے اور حکام کے درمیان زیادہ سے زیادہ اتحاد پر زور دیا۔
علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم قیادت سنبھالنے کے بعد سے ان کی کوئی نئی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ عوامی طور پر جاری نہیں ہوئی۔ ایران وائر کی رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے ان کی صحت اور ملاقاتوں کے بارے میں بیانات تو سامنے آئے ہیں، مگر براہِ راست عوامی منظر میں ان کی عدم موجودگی نے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ ایرانی حکام نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی ہے۔
صدر مسعود پزشکیان بھی ستمبر میں کہہ چکے ہیں کہ وہ نئے رہبر سے دو مرتبہ ملے ہیں اور ان کے بقول خامنہ ای مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ ان کی تازہ ملاقات سات گھنٹے سے زیادہ جاری رہی تھی، ایسا پزشکیان نے بتایا تھا۔ انادولو ایجنسی کے مطابق صدر نے اس ملاقات کو اپنی بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔
قالیباف کا یہ تازہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایرانی اعلیٰ حکام مسلسل خامنہ ای کی صحت سے متعلق یقین دہانیاں کرا رہے ہیں۔ تاہم عوام کے سامنے ان کی موجودگی یا آواز کی تصدیق کرنے والی کوئی نئی ریکارڈنگ نہ آنے کے باعث ان کی صحت سے متعلق سوالات برقرار ہیں۔ عالمی میڈیا بھی خامنہ ای کی عوامی عدم موجودگی پر توجہ دے رہا ہے۔