
بھارتی فوج کی طرف سے سخت انتباہ کے باجود بھارت کی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما یسین ملک کی سربراہی میں قائم کشمیری علیحدگی پسند تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف)کی سربراہی میں احتجاجی ریلی کی چکھوٹی میں ایل او سی کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ جے کے ایل ایف کے زیرقیادت پیپلزفریڈم مارچ کا آغاز آزاد کشمیر کے علاقے بھمبر میں ہوا تھا اور جمعے کی شام تک یہ مظفرآباد تک پہنچی تھی۔ اگر پاکستانی یا ریاست آزاد کشمیر کی حکومت مارچ کو نہیں روکتی ہے تو مارچ کرنے والوں کے بقول وہ لائن آف کنٹرول کو عبور کریں گے۔
ساؤتھ ایشین وائر کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق جے کے ایل ایف کے مرکزی ترجمان رفیق ڈار نے انتظامیہ کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے پرچم اور مختلف نعروں پر مبنی بینرز ہٹانے سے خبردار کیا۔ رفیق ڈار نے کہا کہ مارچ کا آغاز جمعہ کی صبح 10 بجے آزاد جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع بھمبیر سے شروع ہو گا جس میں مظفرآباد اس کی پہلی اور سری نگر اس کی آخری منزل ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پرامن آزادی مارچ میں مظفرآباد تک جانے والے راستے پر تمام علاقوں سے لوگ شامل ہوں گے، انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان، پاکستان کے تمام صوبوں اور دنیا بھر کے مختلف حصوں کے لوگ بھی اس مارچ میں حصہ لیں گے۔
جے کے ایل ایف کے ترجمان نے کہا کہ مارچ کا پہلا مقصد مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرنا ہے جنہیں گزشتتہ 2 ماہ سے 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا مقصد بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر قبضے اور مظالم کی مذمت کرنا ہے اور تیسرا اور اہم ترین مقصد عالمی برادری سمیت اقوام متحدہ کی توجہ طویل عرصے سے موجود مسئلہ کشمیر کے فوری، مستقل اور منصف حل کی جانب مرکوز کروانا ہے۔
تاہم ، پاکستانی میڈیا نے اس مارچ کو کور نہیں کیا ہے۔ ملک کی بڑی میڈیا تنظیمیں ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کر پائی ہیں ۔پاکستانی صحافی حامد میر جن پر2014 میں کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا، نے کہا ہے کہ ملک کے ٹی وی چینلز اپنی آزادی کا تحفظ نہیں کرسکتے ، اس وجہ سے وہ یہ ریلی نہیں دکھا رہے ہیں۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ، سینکڑوں افراد اس مارچ میں شامل ہیں ۔جے کے ایل ایف مطالبہ کررہا ہے کہ آزادجموں و کشمیر کو ہندوستانی اور پاکستانی دونوں کنٹرول سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ جے کے ایل ایف نے ہزاروں نوجوانوں کو ایل او سی عبور کرنے کی تربیت دی ہے۔
دریں اثنا ، 5 اگست 2019 کو ، جب سے بھارت نے وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، زیادہ تر بااثر سیاسی رہنما یا تو سلاخوں کے پیچھے ہیں یا پھر نظربند ہیں جن میں فاروق عبد اللہ ، عمر عبداللہ ، اور محبوبہ مفتی شامل ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں ان کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزاد کشمیر سے ایل او سی پار کرے گا، وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا. سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میںمقبوضہ کشمیر میں 2 ماہ سے جاری غیر انسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں.
انہوں نے کہا ہے کہ اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں ان کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزاد کشمیر سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا‘وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ وہ بیانیہ جس کے ذریعے پاکستان پر ”اسلامی دہشت گردی“ کا الزام لگا کر ظالمانہ بھارتی قبضے کے خلاف اہل کشمیر کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے.
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ، سینئیر صحافی و تجزیہ کار حامد میرنے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیری لائن آف کنٹرول کو نہیں مانتے یہ 1948ء میں سیز فائر لائن قرار دی گئی تھی۔ اسے 1958ء میں مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری غلام عباس نے توڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدے کے بعد یہ ایل او سی قرار پائی آج آزاد کشمیر کی سب پارٹیاں اسے توڑنا چاہتی ہیں ان کی یہ خواہیشبھارتی بیانیہ کیسے ہو گئی؟
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ، ایک اور ٹویٹر پیغام میں سینئری صحافی حامد میر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو چاہئیے تھا کہ اقوام متحدہ سے واپسی پر آزاد کشمیر کی سب جماعتوں کو اعتماد میں لیتے اور لائن آف کنٹرول کراس کرنے کے معاملے پر ان سے بات چیت کرتے ایل او سی توڑنے کی خواہش کو بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف قرار دینا غلط فہمیاں پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ، سینکڑوں افراد اس مارچ میں شامل ہیں ۔جے کے ایل ایف مطالبہ کررہا ہے کہ آزادجموں و کشمیر کو ہندوستانی اور پاکستانی دونوں کنٹرول سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ جے کے ایل ایف نے ہزاروں نوجوانوں کو ایل او سی عبور کرنے کی تربیت دی ہے۔
دریں اثنا ، 5 اگست 2019 کو ، جب سے بھارت نے وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، زیادہ تر بااثر سیاسی رہنما یا تو سلاخوں کے پیچھے ہیں یا پھر نظربند ہیں جن میں فاروق عبد اللہ ، عمر عبداللہ ، اور محبوبہ مفتی شامل ہیں۔