ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پروینہ آہنگر 2019 کی متاثر کن اور بااثر 100 خواتین میں شامل


سری نگر (ساؤتھ ایشین وائر):
بی بی سی نے دنیا بھر سے 2019 کی متاثر کن اور بااثر 100 خواتین کے ناموں کی فہرست شائع کی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے لیے جدوجہد کرنے والی پروینہ آہنگر بھی شامل ہیں۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق برطانیہ کے ممتاز نشریاتی ادارے بی بی سی 100 ویمن پراجیکٹ کے تحت یہ فہرست جاری کی گئی۔ 2019میں اس پراجیکٹ کا سوال تھاکہ اگر دنیا کے معاملات خواتین کے ہاتھوں میں ہوں تو مستقبل کیسا ہوگا؟
انسانی حقوق کی علمبردار شخصیت پروینہ آہنگر مقبوضہ کشمیر میں گم شدہ افرادکے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی کی بانی رہنما ہیں۔ انہیں 2017 میں ناروے میں رفتو ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔وہ ایک لمبے عرصے سے بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھارہی ہیں۔
اے پی ڈی پی غیر سیاسی اور غیر جانبدار شہریوں کے حقوق اور وقار کو تحفظ فراہم کرنے کے غرض سے اپنے منشور کو متحرک کرنے میں مصروف ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق یہ ادارہ غیر سیاسی ہے اور کسی بھی مقامی یا ملکی سیاسی تنظیم سے مالی معاونت حاصل نہیں کرتا ۔ پروینہ وادی میں غیر قانونی طور جسمانی اذیتوں، قیدتنہائی، ہلاکتوں اور دیگر مظالم کے شکار لوگوں کے رشتہ داروں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں ۔ سیاسی، ثقافتی اور سماجی جماعتوں کے لئے غیر اہم، پروینہ کو اب فلپائن، تھائی لینڈ، انڈونیشا جیسے ممالک میں حقوق انسانی پامالی سے متعلق منعقدہ کانفرنسوں میں شرکت کرنے کا موقعہ ملا ۔
ساؤتھ ایشین وائر نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پروینہ آہنگر ان بدقسمت ماؤں میں شامل ہیں، جن کے بیٹے جاوید احمد کو حراستی گمشدگی کا شکار بنایا گیا تھا۔ جاوید احمد کو نیشنل سیکورٹی گارڈز نے سرینگر کے بٹہ مالو علاقے سے 18، اگست 1990 کے دن اٹھا لیا تھا۔ تھا۔ جاوید تب کمسن طالب علم تھا، اور سیکورٹی فورسز نے اِس پر عسکریت پسند تنظیم کے ساتھ وابستہ ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا تھا

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں