سری نگر(ساؤتھ ایشین وائر):
مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ کے رسانہ گاؤں میں کمسن بچی کے قتل اور ریپ کے معاملے میں عدالت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی )کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق جموں کی سٹی کورٹ نے جموں کے ایس ایس پی کو ہدایت دی ہے کہ 7 نومبر سے پہلے اس وقت کی کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔
رسانہ ریپ اورقتل کیس میں ایک ملزم وشال جنگوترا کو پٹھان کوٹ نے ثبوت نہ ملنے پر بری کر دیا تھا، لیکن اب وشال کے ساتھیوں نے کورٹ میں کرائم برانچ پر زبردستی وشال کے خلاف بیان دینے کے معاملے پر ایف آئی آر درج کروائی ہے اور کاروائی کا مطالبہ کیاہے، جسے اب عدالت نے ثبوت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق عدالتی مجسٹریٹ پریم ساگرنے معاملے کے گواہوں سچن شرما، نیرج شرما اورساحل شرما کی ایک درخواست پرجموں کے اے ایس پی کو کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان 6 لوگوں کے خلاف سنگین جرم بنتا ہے۔عدالت نے اس وقت کے ایس ایس پی آرکے جلا (اب ریٹائرڈ)، اے ایس پی پیرزادہ نوید، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس شتمبری شرما اورنثارحسین، پولیس کی پولیس کی کرائم برانچ کے سب انسپکٹر عرفان وانی اورکیول کشورکے خلاف ایف آئی آردرج کرنے کے احکامات دیئے اورجموں کے ایس ایس پی سے 11 نومبر کومعاملے کی اگلی سماعت پررپورٹ پیش کرنے کو کہا۔
دوسری طرف وکیل انکر شرما کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ملزمان پر ریپ کرنے کا الزام محض الزام ہے اسے ثابت نہیں کیا جاسکا ہے۔
رواں سال پٹھان کوٹ میں ایک عدالت نے مقبوضہ کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں ایک مسلم گھرانے کی آٹھ سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق افسر سانجھی رام، دیپک کھجوریا اور پرویش کمار کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔جبکہ سانجھی رام کے بیٹے وشال کو بری کر دیا تھا۔