واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے ایک بار پھر بھارت پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن ختم کرے۔ گزشتہ روز کانگریس میں انسانی حقوق کی جنوبی ایشیا میں صورتحال پر بحث کے دوران کئی ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ پہلی بار مقبوضہ کشمیر پر بھارتی حکومت کو تمام ارکان نے تنقید کا نشانہ بنایا، ارکان کی اکثریت کا فوکس بھارت پر سوالات رہے۔خلاف توقع مقبوضہ کشمیر میں وزیراعظم مودی کے اقدامات کو ارکان کانگریس نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جوکہ گزشتہ دو عشروں سے امریکی انتظامیہ کی ہم آواز بن کر بھارت کیساتھ مضبوط روابط پر زور دیتے آئے ہیں۔ مسلم ڈیموکریٹ سینیٹر الحان عمر نے الزام لگایا کہ کشمیر مودی کی جماعت بی جے پی کی اسلام مخالف فکر کا حصہ ہے۔انہوں نے آسام میں حراستی کیمپوں کی تعمیر سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متنازع رجسٹریشن مہم میں 20 لاکھ کے قریب افراد بھارتی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، مودی حکومت انہیں غیرقانونی تارکین قرار دے کر ملک بدر کرنے کے عزم کااظہار کر چکی ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ’انسٹاگرام‘ کے بعد ’ایکس‘ پر سونیا گاندھی کا ڈیبیو، اپنی کتاب کی پہلی جھلک دکھائی، راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کو کیا یاد
- آئسا صدر نیہا بورا کا ’پیس بانڈ‘ پر دستخط کرنے سے انکار
- تمل ناڈو: محکمۂ تعلیم نے اسکولی عمارتوں کی جانچ اور احاطوں کو محفوظ بنانے کی دی ہدایت
- دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں 12 ویں کی طالبہ نے خود کو لگائی آگ، موقع پر ہی موت، پولیس تحقیقات میں مصروف
- ’مخالفین سے بدلا لیا جا رہا‘، مشہور اداکار نصیرالدین شاہ نے بی جے پی کو بنایا تنقید کا نشانہ
