نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں ایسا قانون وضع کرانا چاہتی ہے جس میں والدین کو صرف دو ہی بچے پیدا کرنے کی اجازت ہو۔ اس منصوبے کا انکشاف حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرست تنظیم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے مغربی اُترپردیش کے شہر مراد آباد کے دورے کے دوران تنظیمی کارکنان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو آر ایس ایس ’’صرف دو بچے‘‘ نامی منصوبے پر عمل کرنا چاہیے اور اس حوالے سے ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت اس پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے اور انہیں دیگر حکومتی سہولیات سے محروم کیا جا سکے۔ تنظیم کے رہنما ارون آنند نے جرمن خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آر ایس ایس کو ملک کی بڑھتی آبادی پر شدید تشویش ہے، لہٰذا اس پر قابو پانا ضروری ہے۔ دریں اثنا بھارت میں مسلم جماعتوں کی وفاقی تنظیم مسلم مجلس مشاورت نے اس متنازع تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی پر کنٹرول کے لیے قانون بنانے کی ضرورت نہیں۔ تنظیم کے صدر نوید حامد کے مطابق یہ مسلمانوں کو چڑانے کے لیے آر ایس ایس کی نفرت انگیز سیاست ہے اور یہی ان کا مشن ہے جس کی تکمیل کے لیے ایسے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- فارم-6 پر الیکشن کمیشن کے متضاد دعوؤں کی جانچ ہونی چاہیے: ادت راج
- ’حکومت کو چاہئے شمشان جیسا سکون‘، شیوسینا-یو بی ٹی نے ’پیس بانڈ‘ پر اٹھائے سوال
- سپریم کورٹ میں ایس آئی آر سے متعلق سماعت ملتوی، 17 نومبر کو ہوگی اگلی سماعت
- ووٹر لسٹ کی غلطی پر اقلیت کے حوالہ والی طنزیہ پوسٹ کا معاملہ، یوپی کے چیف الیکٹورل افسر نے مانگی معافی
- عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کی پیرول میں توسیع سے سپریم کورٹ کا انکار