لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ نے فائیو جی نیٹ ورک میں چینی کمپنی ہواوے کو محدود پیمانے پر کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اس حوالے سے اپنے تحفظات کے اظہار کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل امریکا کی جانب سے شدید دباؤ تھا کہ کمپنی کو اس نظام سے بالکل باہر کر دیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہواوے کے آلات سے جاسوسی کا خطرہ ہے اور ہم ان ملکوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ نہیں کر سکیں گے جو مواصلات کے اہم نظام میں اسے مداخلت کی اجازت دیں گے، تاہم برطانوی وزیر خارجہ ڈومینِک روب نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے برطانیہ کے امریکا اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جب کہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ لندن حکومت کے فیصلے پر مایوس ہے۔ امریکا نے ہواوے پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کے الزام کے تحت پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔ کئی مغربی ممالک نے امریکی مشورے پر عمل کرتے ہوئے چینی کمپنی کو اپنے مواصلات کے نیٹ ورک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو گزشتہ روز لندن پہنچے جہاں وہ وزیر اعظم بورس جانسن اور اپنے ہم منصب سے ملاقاتیں کریں گے۔ جس کے بعد وہ یوکرائن اور پھر ازبکستان کا دورہ کریں گے ۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ملک میں اعلیٰ سطح سے ہو رہی ووٹ چوری، گیانیش کمار کے ہٹنے تک لڑائی جاری رہے گی: راہل گاندھی
- ’ہر جگہ بدعنوانی اپنے عروج پر ہے‘، دیواس میں اموات پر جیتو پٹواری نے مدھیہ پردیش حکومت کو بنایا ہدف تنقید
- ایرانی سپریم لیڈر موجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر سوالات، ایرانی اسپیکر نے دیا جواب
- ’ہمیں رام لیلا میدان میں روکا گیا مودی اور امت شاہ کی رہائش گاہوں پر دھرنا دیں گے‘، وینوگوپال کا انتباہ
- ہتک عزتی کے مقدمہ میں بریت پر پرینکا نے کی راہل کی تعریف، کہا- ’جھوٹ کے خلاف کیا ثابت قدمی کا مظاہرہ‘