پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس نے بحیرۂ روم میں ترکی کے خلاف اپنے جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس پر یونانی وزیر اعظم کیریا کوس مٹسوٹکیس نے پیرس حکومت کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ ترکی کی ہمسایہ ممالک یونان اور قبرص کے ساتھ سمندر سے تیل و گیس نکالنے اور معدنیات کی تلاش کے معاملے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حالیہ اقدام پر یونانی وزیر اعظم نے کہا کہ فرانسیسی جہاز امن کے ضامن ہوں گے۔ واضح رہے کہ ترکی نے نومبر میں لیبیا کی حکومت سے ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت بحیرۂ روم سے لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے تک خصوصی اکنامک زون قائم کیا جائے گا، جسے یونان اور قبرص بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ چند روز قبل فرانسیسی صدر نے ترکی کی جانب سے لیبیا کی عسکری مدد پر بھی تنقید کی تھی۔ دوسری جانب لیبیا کے دارالحکومت کے قریب ترکی کا ایک چھوٹا فوجی اڈا قائم کرنے کے لیے انقرہ اور طرابلس حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق یہ اڈا لیبیا میں عسکری کارروائیوں کا ذمے دار ہوگا اور یہاں ترکی کی اسپیشل فورسز کے علاوہ بحریہ کے دستے بھی موجود ہوں گے۔ یہاں طیاروں کے اترنے کے لیے رن وے اور لیبیا کی قومی حکومت کے ساتھ براہ راست رابطے کا آپریشن روم بھی بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ملک میں اعلیٰ سطح سے ہو رہی ووٹ چوری، گیانیش کمار کے ہٹنے تک لڑائی جاری رہے گی: راہل گاندھی
- ’ہر جگہ بدعنوانی اپنے عروج پر ہے‘، دیواس میں اموات پر جیتو پٹواری نے مدھیہ پردیش حکومت کو بنایا ہدف تنقید
- ایرانی سپریم لیڈر موجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر سوالات، ایرانی اسپیکر نے دیا جواب
- ’ہمیں رام لیلا میدان میں روکا گیا مودی اور امت شاہ کی رہائش گاہوں پر دھرنا دیں گے‘، وینوگوپال کا انتباہ
- ہتک عزتی کے مقدمہ میں بریت پر پرینکا نے کی راہل کی تعریف، کہا- ’جھوٹ کے خلاف کیا ثابت قدمی کا مظاہرہ‘