کراچی (اسٹاف پورٹر )حکومت نے زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے مختلف اقسام کے نئے اور پرانے زرعی ٹریکٹر درآمد کرنے کی اجازت دے دی ۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق مختلف استعداد کار کے ٹریکٹر جو 26سے 75کلوواٹ کے ہیں پر کسٹمز ایکٹ کے مطابق 15فیصد کسٹمزڈیوٹی عائد ہے ، سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت پانچ فیصد سیلز ٹیکس جبکہ چھ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائدہے ۔ جو ٹریکٹرز26سے 75 کلوواٹ کے نہیں ان پر دس فیصد کسٹمز ڈیوٹی ، سترہ فیصد سیلز ٹیکس جبکہ چھ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ہے ۔ ان پر کوئی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں کی گئی ہے جبکہ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نئے ایس آر او کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی سے بھی چھوٹ دی گئی ہے ۔ دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ پیکیج ، رہائش کی منتقلی اور گفٹ اسکیمز کے تحت پرانے زرعی ٹریکٹر کی درآمد کی بھی اجازت دی گئی ہے ۔ استعمال شدہ ٹریکٹرز کی مالیت میں کمی کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے جو پچاس فیصد سیلنگ کے ساتھ ایک فیصد ماہانہ تک ہے ۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- فارم-6 پر الیکشن کمیشن کے متضاد دعوؤں کی جانچ ہونی چاہیے: ادت راج
- ’حکومت کو چاہئے شمشان جیسا سکون‘، شیوسینا-یو بی ٹی نے ’پیس بانڈ‘ پر اٹھائے سوال
- سپریم کورٹ میں ایس آئی آر سے متعلق سماعت ملتوی، 17 نومبر کو ہوگی اگلی سماعت
- ووٹر لسٹ کی غلطی پر اقلیت کے حوالہ والی طنزیہ پوسٹ کا معاملہ، یوپی کے چیف الیکٹورل افسر نے مانگی معافی
- عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کی پیرول میں توسیع سے سپریم کورٹ کا انکار
