اسلام آباد (اے پی پی) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ قوم سے لوٹی گئی رقوم کی واپسی اولین ترجیح ہے،میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچاکر دم لیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے بدعنوان عناصر سے 178 ارب روپے برآمد کرکے بدعنوانی کے تقریباً 600 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کیے ۔ اس وقت ملک کی 25 معزز احتساب عدالتوں میں نیب کے 1275 بدعنوانی کے ریفرنس زیرسماعت ہیں جن کی کل مالیت تقریباً 944 ارب روپے ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوںاور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔اجلاس میں ڈی جی آپریشنز نیب نے بتایا کہ ادارے کو2019ء میں مجموعی طور پر 51591 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 46123 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا جبکہ اس وقت 13299 شکایات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ نیب نے سال 2019ء میں 1464 شکایات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 1362 شکایات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کیا گیا جبکہ اس وقت 770 شکایات کی جانچ پڑتال پر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ملک میں اعلیٰ سطح سے ہو رہی ووٹ چوری، گیانیش کمار کے ہٹنے تک لڑائی جاری رہے گی: راہل گاندھی
- ’ہر جگہ بدعنوانی اپنے عروج پر ہے‘، دیواس میں اموات پر جیتو پٹواری نے مدھیہ پردیش حکومت کو بنایا ہدف تنقید
- ایرانی سپریم لیڈر موجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر سوالات، ایرانی اسپیکر نے دیا جواب
- ’ہمیں رام لیلا میدان میں روکا گیا مودی اور امت شاہ کی رہائش گاہوں پر دھرنا دیں گے‘، وینوگوپال کا انتباہ
- ہتک عزتی کے مقدمہ میں بریت پر پرینکا نے کی راہل کی تعریف، کہا- ’جھوٹ کے خلاف کیا ثابت قدمی کا مظاہرہ‘