اسٹراسبرگ / غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے سربراہ خارجہ امور جوزف بوریل نے اسرائیل پر زوردیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے وادی اردن کو ضم کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ غربِ اردن میں واقع علاقہ کو اپنی ریاست میں ضم کیا تو اس کے خلاف فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمان کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا شاید ہوجائے۔ آپ اس کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ یہ پُرامن ہو۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی اس علاقہ کو مستقبل میں اپنی قائم ہونے والی ریاست میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس وادیِ اردن کو ضم کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے اپنا امن منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس پر اگر عمل کیا جاتا ہے تواس کے تحت اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں پر قبضہ مستحکم کرلے گا۔ اسی تناظر میںحماس نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ صدر محمود عباس پر زور دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ منصوبے اور خطے کے حوالے سے اپنے بیانات کو عملی شکل دیں۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ محمود عباس نے اب تک اپنے بیانات پر بالکل عمل نہیں کیا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- ملک میں اعلیٰ سطح سے ہو رہی ووٹ چوری، گیانیش کمار کے ہٹنے تک لڑائی جاری رہے گی: راہل گاندھی
- ’ہر جگہ بدعنوانی اپنے عروج پر ہے‘، دیواس میں اموات پر جیتو پٹواری نے مدھیہ پردیش حکومت کو بنایا ہدف تنقید
- ایرانی سپریم لیڈر موجتبیٰ خامنہ ای کی صحت پر سوالات، ایرانی اسپیکر نے دیا جواب
- ’ہمیں رام لیلا میدان میں روکا گیا مودی اور امت شاہ کی رہائش گاہوں پر دھرنا دیں گے‘، وینوگوپال کا انتباہ
- ہتک عزتی کے مقدمہ میں بریت پر پرینکا نے کی راہل کی تعریف، کہا- ’جھوٹ کے خلاف کیا ثابت قدمی کا مظاہرہ‘