اسلام آباد/ کابل/ ڈھاکا (خبر ایجنسیاں) مسلمانوں اور مساجد کو شہیدکرنے کے خلاف40 سال بعد بھارت کے خلا ف افغانستان میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیاگیا‘ کابل اور ہرات میں ریلیاں نکالی گئیں۔ جمعے کو کابل میں سول سوسائٹی نے مسلمانوں پر ہندو انتہا پسندوں کے مظالم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ شہر نو پارک سے شروع ہونے والی ریلی کے شرکا نے بھارت کے سفارتخانے کی جانب مارچ شروع کیا تاہم شرکا کو سفارتخانے کی طرف جانے سے روک دیا گیا‘ ریلی کے شرکا نے بھارت کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں بینرز اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے مودی کی قیادت میں حکومت کے ذریعے بھارتی مسلمانوں پر جاری مظالم کی مذمت کی۔ مقررین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ افغان حکومت بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرے۔ جمعے کی نماز کے بعد ایک اور احتجاجی ریلی ہرات شہر میں جامعہ مسجد گجرگاہ شریف کے سامنے سے نکالی گئی ۔ قاری مجیب الرحمٰن انصاری نے ریلی کی قیادت کی جس میں ہزار وں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے ریلی میں بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیا۔ علاوہ ازیں بنگلادیش میں ہزاروں افراد نے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں‘ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر بھارت کے خلاف نعرے درج تھے‘ مظاہرین نے بھارت میں مساجد، دینی مدارس پر حملوں اور مسلمانوں پر حملوں کی مذمت کی‘ مظاہرین نے ریلی میں بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیا ۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- یکم نومبر سے نیا سالانہ پاس ٹول پلازوں پر شروع ہو رہا ہے، جس کی قیمت پندرہ سو روپے ہوگی
- آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب پہنچا سمندری طوفان ’ارنب‘، کئی ریاستوں میں شدید بارش کا ریڈ الرٹ!
- ایسڈ کی کھلے عام فروخت پر سپریم کورٹ سخت، مرکزی حکومت سے طلب کیا جواب
- آرگینک سولر سیلز کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار
- مائیکروسافٹ کی کمپنی چھوڑنے والے ملازمین کو بڑی مالی پیشکش