موغادیشو (انٹرنیشنل ڈیسک) صومالیہ میں عسکریت پسند تنظیم الشباب کا ایک اہم رہنما بشیر محمد محمود امریکی حملے میں ہلاک ہوگیا۔ الشباب کے سربراہ کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالرز مقرر کی گئی تھی، جسے جنوبی علاقے جبہ میں فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ امریکی فوج کی افریقی کمان کے ترجمان کرنل کرس کارنز کا کہنا تھا کہ الشباب کے اہم رہنما کے مرنے سے تنظیم کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں کسی حد تک کم ہوجائیں گی۔ افریقی کمان نے 25 فروری کو رپورٹ دی تھی کہ الشباب کا ایک سینئر رہنما جس نے 5 جنوری کو مندا بے میں حملہ کیا تھا، ساکو میں فضائی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگیا۔ واضح رہے کہ 5 جنوری کو الشباب کے دہشت گرد کینیا کے ایک فوجی اڈے کے اندر گھس آئے تھے، جسے مندا بے میں تعینات امریکی فوج استعمال کرتی ہے۔ ماضی قریب میں بشیر محمد محمود نے الشباب کے 3 دستوں کی قیادت کی تھی، جن میں سے ایک کینیا میں سرگرم تھا۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- یکم نومبر سے نیا سالانہ پاس ٹول پلازوں پر شروع ہو رہا ہے، جس کی قیمت پندرہ سو روپے ہوگی
- آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب پہنچا سمندری طوفان ’ارنب‘، کئی ریاستوں میں شدید بارش کا ریڈ الرٹ!
- ایسڈ کی کھلے عام فروخت پر سپریم کورٹ سخت، مرکزی حکومت سے طلب کیا جواب
- آرگینک سولر سیلز کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار
- مائیکروسافٹ کی کمپنی چھوڑنے والے ملازمین کو بڑی مالی پیشکش