پرائیویٹ ڈرامے کس کے ایجنڈے پر

تحریر: نوید احمد
ایک زمانہ تھا جب صرف سرکاری ٹی وی یعنی پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اور اس کی نشریات کی بھی ٹائمنگ ہوا کرتی تھی ہر عمر کے لوگوں کے لئے پروگرامز آتے تھے اور سب کو اپنے اپنے پروگرامز کی ٹائمںگ کا معلوم ہوتا تھا اصلاحی ڈرامے بنا کرتے تھے لکھاری ایسے ڈرامے لکھتے تھے جن میں معاشرے کے سدھار کا عنصر نمایاں ہوتا تھا جنہیں دیکھ کر معاشرہ پروان چڑھتا تھا ڈراموں میں معاشرتی اقدار کا بہت خیال رکھا جاتا تھا
پھر ہم نے ترقی کی اور پرائیویٹ چینلز کا دور شروع ہوا نئے نئے رائٹرز ، ڈائریکٹرز ، پروڈیوسرز اور ایکٹرز میدان میں آئے نئی نئی ورائٹی متعارف کرائی گئی ان نئی ورائیٹیز میں ایک تحفہ نئے ڈرامہ رائٹرز ، پروڈیوسرز ڈائریکٹرز کی وہ کھیپ تھی جس نے ہمارے معاشرے کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا جس معاشرے میں ہر رشتہ کا تقدس تھا جس معاشرے میں ہر رشتہ عظیم تھا اسے کسی دوسری جانب لگادیا گیا
نئے نویلے رائٹرز ، پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز نے ایسی ایسی کہانیاں گھڑنا شروع کیں جنہیں اب اپنی فیملیز کے ہمراہ دیکھا بھی نہیں جاسکتا آج کل کے ڈراموں پر نظر ڈالیں تو اے آر وائی ، جیو اور ہم ٹی وی کے درمیان ایک مقابلہ جاری ہے اور یہ مقابلہ کوالٹی کا نہیں بلکہ معاشرے کو بگاڑنے کا ہے ان چینلز کے ڈرامے دیکھ کر لگتا ہے کہ ایک مخصوص نظریئے کو ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
اگر ہم ٹی وی کی بات کریں تو ہم ٹی وی کا ڈرامہ سیریل پیار کے صدقے میں سسر کو بہو پر فدا دکھایا جارہا ہمارے اسلامی معاشرے میں سسر اور بہو کے درمیان باپ بیٹی کا رشتہ ہوتا سسر اپنی بہو کو اپنی بیٹی ہی تصور کرتا ہے لیکن پتہ نہیں اس ڈرامے میں کون سا سبق سکھایا جارہا ہے اسی طرح ایک ڈرامہ سیریل ہے دلربا میں اس میں ایک لڑکی کو پانچ پانچ لڑکوں سے بیک وقت عشق کرتے دکھایا جارہا ہے یہ کس معاشرے میں ہوتا ہے ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا سکھا رہے ہیں کیا سبق دے رہے ہیں کیا یہ ڈرامے ہم اپنی بہن بیٹیوں کےساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں

اے آر وائی کا ڈرامہ جلن اس میں بہن کو اپنے بہنوئی پر عاشق دکھایا جارہا ہے یہاں بھی ایک رشتے کو پامال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ڈرامہ سیریل عشقیہ میں بہنوئی اپنی سالی پر فدا ہے یہ کہاں کا ایجنڈا ہے کون ہیں یہ لکھنے والے کہاں سے آئے ہیں یہ کس معاشرے کی پیداوار ہیں ہمارا معاشرہ تو ایسا نہیں ہے ہم نے حسینہ معین ، انور مقصود ، فاطمہ ثریا بجیا ، اقبال حسن خان ، منو بھائی کے تحریر کردہ ڈرامے دیکھے جن میں ایک سبق ہوتا تھا

جیو کی ڈرامہ سیریل دیوانگی میں باس کو اپنے ملازم کی بیوی پر عاشق دکھایا جارہا ہے کیا ان نام نہاد لکھاریوں کو عشق و معاشقہ کے سوا کوئی اور چیز نظر نہیں آتی کس کے ایجنڈے پر کام کرکے معاشرے کو بے راہ روی کی جانب دھکیلاجارہا ہے ان ڈراموں کی بھرمار کے بعد معاشرے میں برائیاں جس تیزی سے پھیل رہی ہیں وہ کسی سے عیاں نہیں کیا ہمارے ٹی وی چینلز کوئی اصلاحی ڈرامے نہیں بناسکتے کیا ان چینلز کو روکنے والا کوئی نہیں ہے کہاں ہے پیمرا ، کہاں ہیں انسانی حقوق کے علمبردار ادارے کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ہمارے معاشرے کی تباہی کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے

The post پرائیویٹ ڈرامے کس کے ایجنڈے پر appeared first on Khabarwalay.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں