امریکہ: اسکول میں فائرنگ سے تین طالب علم ہلاک، آٹھ افراد زخمی

امریکی ریاست مشی گن میں آکسفورڈ ٹاون شپ میں ایک ہائی اسکول کے سولہ سالہ طالبعلم کی اپنے اسکول میں اندھا دھند فائرنگ سے تین طالب علم ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق،زخمیوں میں شامل ایک 14 سالہ لڑکی کی حالت نازک ہے جسے سرجری کے بعد وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ہے۔ آکلینڈ کاونٹی کے شیرف مائیکل بچرڈ نے بتایا ہے کہ تحقیقات کار منگل کے روز آکسفورڈ ہائی اسکول میں، جو ڈیٹرائٹ کے شمال میں 48 میل پر واقع ہے، پیش آنے والے واقعے کے محرکات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شیرف نے منگل کو دیر گئے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جس شخص کو اس واقعے کے اندر کی کہانی اور محرک کا پتا ہے، ”وہ بول نہیں رہا‘‘۔ وہ بظاہر مشتبہ حملہ آور کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

شیرف نے بتایا کہ911 پر ایک سو کے قریب کالیں موصول ہونے کے بعد پولیس آفیسرز فورا جائے وقوعہ پر پہنچے اور انہوں نے اسکول کے ہال وے میں مشتبہ حملہ آور طالب علم کو چند منٹ میں ہی گرفتار کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے پولیس کو دیکھ کر بنا مزاحمت خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا ہے۔

شیرف بوچرڈ کے مطابق مشتبہ حملہ آور کے والد نے بلیک فرائیڈے پر نائن ایم ایم کا پستول خریدا تھا۔ بوچرڈ کے بقول، وہ نہیں جانتے کہ ان کے والد نے یہ گن کیوں خریدی جبکہ ان کا بیٹا سوشل میڈیا پر اس پستول کی تصاویر اور اس گن سے شونٹنگ کی پریکٹس کی تصاویر پوسٹ کرتا رہا ہے۔

حکام نے حملہ آور کا نام جاری نہیں کیا۔ جو تین طالب علم فائرنگ کے اس واقعے میں ہلاک ہوئے ان میں 16 سالہ ٹیٹ مائر، 14 سال کی ہانا جولیانا اور سترہ سالہ میڈیسن بالڈون شامل ہیں۔ بوچرڈ نے بتایا کہ ٹیٹ مائر نے پولیس کی گاڑی میں دم توڑا جب ان کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا جا رہا تھا۔

فائرنگ میں جس ٹیچر کا کندھا زخمی ہوا تھا، ان کو ہسپتال سے گھر بھیج دیا گیا ہے جبکہ باقی سات طالبعلم جن کی عمریں چودہ سے سترہ سال کے درمیان ہیں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

شیرف نے بتایا کہ جب حملہ آور نے خود کو پولیس کے حوالے کیا اس وقت بھی اس کے پستول میں سات گولیاں موجود تھیں۔

انڈر شیرف مائیک میکیب نے کہا ہے کہ حملہ آور طالب علم کے والدین نے اپنے بیٹے سے کہا ہے کہ وہ پولیس کے سامنے کوئی بیان نہ دے اور کم عمر حملہ آور سے بات کرنے کے لیے پولیس کو اس کے والدین یا سرپرستوں سے اجازت لینا چاہیے۔

آکلینڈ کاونٹی کی پراسیکیوٹر کیرن میکڈانلڈ نے کہا ہے کہ ان کا دفتر جلد فردجرم عائد کر دے گا، جس سے متعلق تفصیلات بدھ کو سامنے آ جائیں گے۔

[اس خبر میں شامل مواد ایسو سی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے]

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں