

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک ہائی اسکول میں تین زوردار دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ افغان سیکیورٹی اور صحت کے حکام کے مطابق دھماکوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کابل کے کمانڈر کے ترجمان خالد زدران نے کہا ہے کہ ”ایک ہائی اسکول میں تین دھماکے ہوئے ہیں جس میں شیعہ کمیونٹی کے افراد کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔”
بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکے جس مقام پر ہوئے ہیں اس کے اطراف میں رہنے والی آبادی میں زیادہ تر کا تعلق شیعہ ہزارہ برادری سے ہے۔
افغانستان میں ماضی میں بھی شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور ان پر حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش خراساں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔ البتہ منگل کو ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری فی الحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
ادھر اسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ دھماکوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔