ایران نے تین ماہ میں100سے زیادہ افراد کو پھانسی دی،  اقوام متحدہ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی رپورٹ کے مطابق، اِس سال کے ابتدائی تین مہینوں میں ایرا ن نے 100 سے زیادہ افراد کو پھانسی کی سزا دی ۔ اور اس سزا پر عملدرامد میں مسلسل اضافہ تشویش ناک ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ڈپٹی چیف برائے انسانی حقوق ندا الناشف نے منگل کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے سامنے یہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سن 2020 میں 260 اور 2021 میں کم از کم310 افراد کو پھانسی دی گئی، جب کہ موجودہ سال بھی ایران میں یہ سلسلہ جاری ہے۔

ندا کے مطابق اِس سال یکم جنوری اور 20 مارچ کے درمیان اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت کم از کم 105 افراد کو پھانسی دی گئی۔سیکرٹری جنرل کی اِس حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں منشیات سمیت دیگر چھوٹے جرائم میں پھانسی کی سزاؤں میں اضافہ تشویش ناک ہے۔

ندا الناشف نے کونسل کو بتایا کہ سزائے موت ایسے الزامات کی بنیاد پر بھی دی جا رہی ہے جو ‘انتہائی سنگین جرائم’ کے زمرے میں نہیں آتے اور نہ ہی یہ منصفانہ ٹرائل کے معیار سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اِس سال مارچ میں منشیات کے الزام میں سزائے موت کے منتظر 52 افراد کو پھانسی کے لیے شیراز جیل منتقل کیا گیا۔ جب کہ بین الاقوامی قانون کے منافی نا بالغ ملزمان کو سزائے موت دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔


ندا کا کہنا تھا کہ اکست 2021 اور مارچ 2022 کے درمیان کم از کم دو ایسے افراد کوپھانسیاں دی گئیں، جو اس وقت نا بالغ تھے جن ان سے جرم سرزد ہوا تھا ، جب کہ85 سے زائد نا بالغوں کوسزائے موت کی سزا سنائی گئی ۔ تاہم اُنہوں نے اِس سال فروری میں ایران کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا، جس کے تحت ان نابالغ مجرموں کی سزائے موت کو ختم کر دیا گیا جو 18 سال سے پھانسی کی سزا کا انتظار کرنے رہے تھے۔

طاقت کا بے جا استعمال

انسانی حقوق کی نائب سربراہ نے ایران میں گزشتہ سال متعدد اہم سماجی، سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کے خلاف مظاہروں کے دوران دیگر حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال معمول ہے۔جیسے رواں سال اپریل اور مئی کے دوران اساتذہ، وکلا، فن کاروں سمیت55 مظاہرین کو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنےکے الزامات پر گرفتار کیا گیا، جب کہ نومبر 2019 میں ملک گیر مظاہروں کے دوران انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کی جوابدہی بھی نہیں کی گئی۔

ندا الناشف نے قید کے دوران بڑے پیمانے پر اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے پر امن مظاہرین اور مقید افراد پر بے جا طاقت کا استعمال جاری ہے۔

دوسری جانب جنیوا میں ایران کے نائب مستقل مندوب مہدی علی عابدی نے اِس رپورٹ کو اقوام متحدہ پر مغربی ممالک کے بدنیتی پر مبنی مسلط کردہ مینڈیٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اُنہوں نے کونسل کو بتایا کہ تعصب پر مبنی اس رپورٹ کا مقصد ایران کو بدنام کرنا ہے، اور انسانی حقوق جیسے اہم موضوع کو سیاسی آلہ کار بنانا شرمناک ہے۔

(خبر کا مواد اے ایف پی سے لیا گیا )

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں