ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیلی فورنیا میں فائرنگ کے مزید دو واقعات میں سات افراد ہلاک

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق فائرنگ کے واقعات پیر کو سان فرانسسکو کے جنوبی ساحلی علاقے میں مشروم فارم اور ٹرکنگ فرم میں پیش آئے۔

سان میٹیو کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز کے صدر ڈیو پائن کے مطابق ہاف مون بے شہر کے مضافات میں چار افراد فارم پر جب کہ تین ٹرکنگ کے کاروبار کے مقام پر ہلاک ہوئے۔ انہوں نے فائرنگ کے حالیہ واقعات کو دلخراش قرار دیا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ فائرنگ کے دونوں واقعات کا آپس میں کیا تعلق ہے۔

حکام نے بتایا کہ ہاف مون بے کے علاقے میں فائرنگ کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سان میٹیو کاؤنٹی کی شیرف کرسٹینا کارپوس نے بتایا ہے کہ حراست میں لیا جائے والا شخص ژاؤ بھی مشروم فارم میں کام کرتا تھا اور مارے جانے والے افراد اس کے ساتھی کارکن تھے۔ ژاؤ کی عمر 67 سال ہے ۔ تاہم شیرف کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ فائرنگ سے اپنے ساتھیوں کو ہلاک کرنے کا پس منظر کیا تھا۔

مشروم فارم میں ہلاک ہونے والے چار افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ ہلاک شدگان ہسپانوی اور ایشین تھے اور تارکین وطن تھے۔

اس سے قبل ہفتے کو جنوبی کیلی فورنیا کے بال روم ڈانس ہال میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 11 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔


حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کا مقصد ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے۔

حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کا مقصد ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے۔

سان میٹیو کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز کے صدر کے مطابق مشتبہ شخص ایک کمپنی کے لیے کام کرتا تھا اور وہ بظاہر’مضطرب ورکر’ معلوم ہوتا ہے۔

کیلی فورنیا کے سینیٹر جوش بیکر کے مطابق فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے بھی کہا ہے کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ایڈوائزر نے صدر جو بائیڈن کو کیلی فورنیا میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات پر بریفنگ دی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق جیسے ہی مزید تفصیلات دستیاب ہوں گی صدر بائیڈن کو ان سے آگاہ کیا جائے گا۔

سان میٹیو کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے شام پانچ بجے ایک ٹوئٹ میں مشتبہ شخص کو حراست میں لیے جانے سے متعلق آگاہ کیا اور بتایا کہ کمیونٹی کو اس وقت کوئی خطرہ نہیں ہے۔

‘اے پی’ کی خبر کے مطابق ٹیلی ویژن فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ افسران بغیر کسی مزاحمت کے ایک شخص کو حراست میں لے رہے ہیں جب کہ پولیس افسران کو گرین ہاؤسز والے فارم سے شواہد اکٹھے کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

(اس خبر میں شامل زیادہ تر موادخبر رساں ادارے ‘ اے پی’ سے لیا گیا ہے)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں