ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ کے صدارتی انتخابات: کیا ڈیسانٹس اورٹرمپ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوگا؟

وائٹ ہاؤس کے لیے دوڑ میں دیگر ریپبلکن امیدواروں کے ساتھ ران ڈیسانٹس کے شامل ہوتے ہی ان اندازوں میں تیزی آ گئی ہے کہ آیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے بڑے حریف ثابت ہوں گے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو 2024 میں امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن پارٹی کے سب سے بڑے امیدوار سمجھے جاتے ہیں، فلوریڈا کے گورنر ڈیسانٹس کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مہینوں صرف کیے ہیں۔ کیونکہ وہ اور ان کی ٹیم ڈیسانٹس کو اپنا سب سے بڑا مدِ مقابل تصور کرتی ہے۔

اب تک ڈیسانٹس نے خود کو ایسی کسی لڑائی سے الگ رکھا ہے اور ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے حملوں کا جواب نہیں دیا اور بدھ کے روز ڈیسانٹس کے اپنی انتخابی مہم کے اعلان سے بھی یہی ظاہر ہوا ہے کہ فی الحال وہ ٹرمپ یا ان کے اتحادیوں پر حملوں کا آغاز نہیں کر رہے۔

فلو ریڈا کے گورنر ران ڈیسانٹس اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک راؤنڈ ٹیبل میں شریک ہیں۔ فوٹو اے پی

تاہم یہ بات عیاں ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی میں ایک ایسی پوزیشن حاصل ہے جس نے سات سال سے پارٹی پر ان کا غلبہ برقرار رکھا ہے۔

اس کے باوجود ریپبلکن پارٹی کے اسٹریجک تجزیہ کار ایلکس کونانٹ کہتے ہیں کہ آئندہ دنوں میں انتخابی مہم زیادہ تند ہو جائے گی اور ڈیسانٹس خاموش نہیں رہ سکیں گے۔

وہ کہتے ہیں،” اب انہیں اس مہم کا سفر باقاعدہ شروع کرنا ہوگا، میڈیا کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا اور اپنے حریفوں پر جوابی وار کرنا ہوگا۔”

لیکن ڈیسانٹس نے بدھ کی شام اپنی انتخابی مہم کا اعلان کرتے ہوئے اپنے سب سے بڑے حریف( ڈونلڈ ٹرمپ) پر ڈھکے چھپے انداز میں کچھ نکتہ چینی کی مگر ایک مرتبہ بھی ان کا نام نہیں لیا۔


ٹوئٹر کے مالک ایلان مسک کے ساتھ ٹوئٹر سپیسز پر اپنی انتخابی مہم کا اعلان کرتے ہوئے ڈیسانٹس نے کہا،” فتح کا متبادل کوئی نہیں۔ ہمیں حالیہ برسوں میں ریپبلکن پارٹی میں شکست کے پھیلے ہوئے کلچر کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں پیچھے نہیں، آگے کی جانب دیکھنا ہے۔”

ان کا یہ پیغام زوردار ہو سکتا تھا اگر اس لائیو سٹریم میں بار بار خلل نہ پڑتا۔

90 منٹ کی اس گفتگو میں طویل وقفے آتے رہے اور لاکھوں لوگ ان کی یا ایلان مسک کی بات نہ سن سکے۔

چونکہ یہ صرف آڈیو پیغام تھا اور 25 منٹ تک اس کا سلسلہ بار بار منقطع ہو رہا تھا اس لیے ان کی گفتگو وہ تاثر پیدا نہ کرسکی جو وہ چاہتے تھے۔

بعد میں فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں ڈیسانٹس نے کہا کہ ان کے خیال میں ریپبلکن پارٹی کے ابتدائی مباحثوں کے آغاز کے بعد امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی حاصل کرنے کی اس دوڑ کے سب امیدواروں کو ان میں حصہ لینا چاہیے۔

واضح رہے کہ سابق صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ ان پرائمری ڈیبیٹس کا بائیکاٹ کریں گے۔

تاہم ڈیسانٹس کا کہنا تھا،” اس دنیا میں کسی کو بھی کوئی صوابدید حاصل نہیں۔”


ڈیسانٹس کی ٹیم کا خیال ہے کہ امریکہ میں اسقاطِ حمل کا معاملہ ابتدائی ووٹروں کی نظر میں ٹرمپ کی اہمیت کم کرسکتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں اپنے ہی مقرر کردہ ججوں کی جانب سے رو بمقابلہ ویڈ کے فیصلے کو ختم کرنے کے باوجود ٹرمپ نے اس سلسلے میں وفاقی سطح پر ممانعت کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے اب تک زیادہ توجہ ڈیسانٹس پر نکتہ چینی پر دی ہے۔ وہ بارہا فلوریڈا کے گورنر پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں کہ وہ جب کانگریس میں تھے تو انہوں نے، سوشل سیکیورٹی اور میڈی کئیر جیسے پروگراموں میں کٹوتیوں کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 2018 میں گورنرکا انتخاب لڑنے کے دوران ٹرمپ نے ڈیسانٹس کو پرائمری جیتنے میں مدد دی تھی لیکن اب ٹرمپ ڈیسانٹس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں،” ان کی شخصیت میں ‘پیوندکاری’ کی اشد ضرورت ہے لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں، یہ سہولت طبی طور پر ابھی میسر نہیں۔”

( اس خبر میں کچھ مواد اے پی اور رائٹرز سے لیا گیا ہے)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں