امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے اور اس سلسلے میں پیش رفت کے لیے خاصے بے چین ہیں، صدر کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ خلوص نیت کے ساتھ بامقصد بات چیت کو آگے بڑھائیں۔
ہنگری کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں اور امریکی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ ایرانی حکام کے ساتھ نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کو آگے بڑھایا جائے، تاکہ جاری تنازع کا کوئی قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے، واشنگٹن اس وقت کسی مثبت نتیجے کے حصول کے لیے سفارتی راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایک “کمزور جنگ بندی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نازک مرحلہ ہے، جہاں دونوں فریقین کے طرزِ عمل پر مستقبل کی پیش رفت کا انحصار ہے، اگر ایران بھی خلوصِ نیت کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوتا ہے تو کسی معاہدے تک پہنچنا بعید از قیاس نہیں، تاہم اس کا دارومدار ایرانی قیادت کے رویے اور فیصلوں پر ہے۔
امریکی نائب صدر نے امید ظاہر کی کہ تہران دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرے گا اور ایسے فیصلے کرے گا جو خطے میں استحکام کا باعث بنیں، کیونکہ موجودہ حالات کسی بھی غلط قدم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کا اعلان صدر ٹرمپ نے بدھ کی شب کیا تھا۔ اس معاہدے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے فوری طور پر کشیدگی میں کمی کے آثار پیدا کیے۔