پشاور: ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کے دوران فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 22 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ آپریشن مصدقہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 21 اپریل 2026 کو ضلع خیبر کے حساس علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ آپریشن شروع کیا۔
کارروائی کے دوران دہشتگردوں نے شدید مزاحمت کی اور دونوں جانب فائرنگ کا تبادلہ ہوا، تاہم فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے 22 عناصر مارے گئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشتگرد گرفتاری کے خوف سے اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے، جس کی زد میں آ کر ایک 10 سالہ معصوم بچہ شہید ہو گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی فضا پیدا کر دی، جبکہ مقامی آبادی نے دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ان عناصر کی سفاکیت کا واضح ثبوت ہے۔ آپریشن کے بعد ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ عناصر ماضی میں متعدد دہشتگرد حملوں، تخریبی کارروائیوں اور امن و امان خراب کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے، جن کی طویل عرصے سے تلاش جاری تھی۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے میں ممکنہ طور پر چھپے ہوئے دیگر دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ قومی ایکشن پلان اور وژن عزم استحکام کے تحت ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی، اور دشمن کے ہر مذموم منصوبے کو ناکام بنایا جائے گا۔