ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں، اس کی رپورٹ کوئی معنی نہیں رکھتی، چیئرمین نیب

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں اور اس کی رپورٹس ان کے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے سال 2025 کے دوران ریکارڈ ریکوریز کیں اور بدعنوان عناصر سے بڑی مقدار میں رقوم برآمد کی گئیں، 2019 سے اب تک نیب نے جتنی بھی رقوم وصول کیں، ان میں سے ایک روپیہ بھی ادارے نے اپنے پاس نہیں رکھا بلکہ تمام رقم قومی خزانے میں جمع کرائی گئی۔

چیئرمین نیب نے آئی ایم ایف کی رپورٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ادارے نے اپنی رپورٹ میں نیب کی کارکردگی کو بہتر قرار دیا ہے، اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان کے مفادات کے ساتھ مخلص نہیں، عالمی ادارے مسلسل نئے مطالبات سامنے لاتے رہتے ہیں۔

انہوں نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اس ادارے کی فنڈنگ کون کرتا ہے اور اس کے سروے کس بنیاد پر کیے جاتے ہیں، چند افراد پورے ملک سے متعلق رائے قائم کرتے ہیں، جس سے شفافیت پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

نذیر احمد بٹ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی بعض رپورٹس متعصبانہ دکھائی دیتی ہیں کیونکہ ان میں بعض ممالک کی درجہ بندی حقائق سے مختلف محسوس ہوتی ہے، ڈیولپرز کو مقررہ مدت میں منصوبے مکمل کرنا ہوں گے اور شہریوں کے ساتھ دھوکا دہی کی گنجائش کم سے کم رہ جائے گی۔

پراپرٹی سیکٹر میں اصلاحات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے بتایا کہ نیب اور وزارت ہاؤسنگ مشترکہ طور پر اہم پراپرٹی ریفارمز متعارف کرا رہے ہیں، جن کا مقصد شہریوں کو فراڈ سے بچانا ہے۔

مجوزہ اصلاحات کے بعد جائیداد کی خرید و فروخت صرف بینکنگ چینل کے ذریعے ممکن ہوگی جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائلوں کے بجائے حقیقی پلاٹس فراہم کرنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ پراپرٹی لین دین کے معاہدے سہ فریقی ہوں گے جن میں خریدار، فروخت کنندہ اور ریگولیٹر شامل ہوگا۔

انہوں نے نیب کے دائرہ اختیار میں تبدیلی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ احتساب کے مالی حجم کی حد پچاس کروڑ روپے سے کم کر کے دس سے پندرہ کروڑ روپے تک لانے پر غور ہونا چاہیے جبکہ بے نامی جائیدادوں سے متعلق قوانین کو بھی مزید واضح اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں