لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں تازہ کارروائی میں کم از کم 2 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق قصبہ چوکین کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے فضائی حملے نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ کئی افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں چوکین کے میئر بھی شامل ہیں، جب کہ حملے سے متعدد رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور پورا علاقہ شدید نقصان سے دوچار ہوا۔
اسی دوران اسرائیلی فضائیہ نے ضلع نباتیہ کے قصبے ادشیت پر بھی حملہ کیا جبکہ ایک ڈرون کارروائی میں کفرجوز اور نباتیہ کو ملانے والی شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس سے مالی نقصان ہوا تاہم جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
صورتحال مزید کشیدہ اس وقت ہوئی جب اسرائیلی توپ خانے نے فرون، غندوریہ اور وادی السلوقی کے نواحی علاقوں پر گولہ باری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ صبح کے اوقات میں رامیہ اور قوزاہ کے اطراف بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے باعث سرحدی پٹی کے علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔
مسلسل حملوں کے باعث جنوبی لبنان کے مختلف قصبے شدید دباؤ کا شکار ہیں جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور ہو رہی ہے۔