ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکا نے ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنا دیا

خلیجِ عمان ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن گئی ہے جہاں امریکی فوج نے ایرانی تیل بردار جہاز پر کارروائی کرتے ہوئے اس کے نظامِ رہنمائی کو نشانہ بنایا، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری تناؤ نے ایک نئی خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکی شرائط پر مبنی معاہدہ قبول نہ کیا تو مزید شدید اور وسیع فضائی حملے کیے جائیں گے۔

امریکی عسکری حکام کے مطابق بدھ کے روز خلیجِ عمان میں ایک امریکی جنگی طیارے نے ایرانی آئل ٹینکر کے رَڈر پر حملہ کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ جہاز ایران پر عائد امریکی بحری پابندیوں کو توڑتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے بعد اسے روکنے کیلئے کارروائی عمل میں لائی گئی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان بظاہر جنگ بندی برقرار ہے، تاہم پس پردہ دونوں ممالک کے تعلقات بدستور شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ خاموش جنگ بندی کے باوجود خطے میں فوجی دباؤ، معاشی پابندیاں اور دھمکی آمیز بیانات حالات کو مسلسل غیر یقینی بنا رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ 2 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل و گیس کی فراہمی دوبارہ معمول پر آ سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ایران کو امریکی تجاویز تسلیم کرنا ہوں گی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر تہران نے معاہدے سے انکار کیا تو امریکا دوبارہ بمباری شروع کرے گا اور اس مرتبہ کارروائی پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن ہوگی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور تہران کے درمیان ایک محدود نوعیت کے معاہدے پر پیشرفت جاری ہے۔ مجوزہ نکات میں ایران کی یورینیم افزودگی محدود کرنا، بعض امریکی پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی جزوی بحالی اور آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنا شامل بتایا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی انتظامیہ نے ان اطلاعات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔

دوسری جانب ایران نے امریکی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی تفصیلات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا میں پیش کی جانے والی بعض تجاویز کو تہران سختی سے مسترد کر چکا ہے، البتہ امریکا کی نئی پیشکشوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔

ادھر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 اپریل سے جاری غیر یقینی جنگ بندی تاحال بڑی حد تک برقرار ہے، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات میں بھی کئی اہم معاملات زیرِ غور آئے تھے، تاہم فریقین کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور محاذ پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسرائیل نے بدھ کے روز بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں پر فضائی حملہ کیا، جو اسرائیل اور ایران نواز حزب اللہ کے درمیان 17 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کا ہدف حزب اللہ کی رضوان فورس سے تعلق رکھنے والا ایک اہم کمانڈر تھا، تاہم حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر کسی ردعمل کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ پر مؤثر رکاوٹوں کے باعث تیل اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے دنیا کی بڑی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں، خصوصاً چین اس صورتحال سے بری طرح متاثر بتایا جا رہا ہے۔

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایرانی اعلیٰ سفارتکار سے ملاقات کے دوران فوری اور جامع جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اس پورے تنازع پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ دوسری جانب امریکا چین پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات استعمال کرتے ہوئے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرے تاکہ عالمی توانائی بحران مزید سنگین صورت اختیار نہ کرے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں