ہوانا: عالمی سطح پر تیل کی قلت اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب کیوبا پر بھی نمایاں ہونے لگے جہاں شدید ایندھن بحران کے باعث ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی شدید کمی کے باعث کیوبا کے کئی علاقے مکمل تاریکی میں ڈوب گئے جبکہ لاکھوں شہری گھنٹوں بجلی سے محروم ہیں۔ بعض علاقوں میں روزانہ 19 گھنٹے تک بجلی بند رہنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کیوبا کے وزیرِ توانائی نے اعتراف کیا کہ ملک میں اس وقت ایندھن، تیل اور ڈیزل کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق حکومت عارضی طور پر مقامی گیس اور محدود خام تیل پر انحصار کر رہی ہے، تاہم یہ وسائل ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
کیوبا حکومت نے بحران کی بڑی وجہ امریکی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کو قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باعث بیرونِ ملک سے ایندھن کی فراہمی شدید متاثر ہوئی جس سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی۔
دارالحکومت ہوانا اور دیگر شہروں میں عوام نے طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر حکومت سے بجلی کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ کیوبا پہلے ہی معاشی مشکلات، مہنگائی، خوراک اور ادویات کی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے جبکہ حالیہ توانائی بحران نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔