ریاض: مسجد اقصیٰ کے احاطے میں قابض اسرائیلی فورسز کی جانب سے پرچم لہرانے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کے واقعے پر سعودی عرب نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے اس اشتعال انگیز کارروائی کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی عرب نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت مسلمہ ہے، جس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کی کوشش کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ ایسی کارروائیاں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتی ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مملکت اسرائیل کے ان غیر قانونی اقدامات کو یکسر مسترد کرتی ہے جو القدس کے تشخص کو تبدیل کرنے کی سازش ہیں۔ ایسی جارحانہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی ضابطوں کی نفی ہیں بلکہ خطے کے نازک امن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہیں۔
#بيان | تعرب وزارة الخارجية عن إدانة المملكة العربية السعودية للممارسات الاستفزازية المتكررة من مسؤولي سلطات الاحتلال الإسرائيلي بحق المسجد الأقصى المبارك، وآخرها اقتحام مسؤول في سلطات الاحتلال الاسرائيلي للمسجد الأقصى تحت حماية شرطة الاحتلال، ورفع مسؤول آخر لعلم سلطات الاحتلال… pic.twitter.com/WxFYvJBibt
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) May 14, 2026
سعودی حکومت نے عالمی برادری اور دنیا کی بااثر طاقتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جاری یہ اشتعال انگیزیاں پورے خطے کو عدم استحکام کی جانب دھکیل رہی ہیں جنہیں روکنا اب انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔
عالمی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے سعودی عرب نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ان من مانے اور پرتشدد اقدامات کا راستہ روکا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ القدس کے تقدس کو ہر قیمت پر محفوظ بنانا عالمی برادری کی اہم اخلاقی ذمہ داری ہے۔
سعودی عرب کا موقف ہے کہ مسجد اقصیٰ کا معاملہ پوری مسلم امہ کے جذبات سے جڑا ہوا ہے ۔ القدس کی حیثیت پر کسی بھی قسم کی آنچ آنے کو خاموشی سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ عالمی برادری کو اس مسئلے پر عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ممکن بنائی جا سکے۔