کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس دارالحکومت کیف سمیت یوکرین کے مختلف حصوں پر بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری کر رہا ہے، جس میں جدید ہائپرسونک میزائل “اوریشنک” سمیت دیگر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معلومات یوکرین، امریکا اور یورپی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں،روس ممکنہ طور پر مشترکہ نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں میزائل اور ڈرون دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق روس اس سے قبل بھی “اوریشنک” ہائپرسونک میزائل استعمال کر چکا ہے، جسے روسی قیادت ناقابلِ روک اور انتہائی تیز رفتار ہتھیار قرار دیتی ہے، کیونکہ اس کی رفتار آواز سے کئی گنا زیادہ بتائی جاتی ہے، اس میزائل کو پہلی بار نومبر 2024 میں یوکرین کی ایک فوجی تنصیب پر استعمال کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں بھی اس کے محدود استعمال کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ اس نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال جنگ کو مزید طول دے رہا ہے اور خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف ردعمل کی پالیسی کے بجائے پیشگی اقدامات کریں تاکہ روس کو مزید جارحیت سے روکا جا سکے۔
یورپی رہنماؤں نے بھی ماضی میں ایسے حملوں کو شدید تشویش ناک قرار دیتے ہوئے انہیں خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث قرار دیا تھا جبکہ ماہرین کے مطابق یوکرین جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جدید اور انتہائی تباہ کن ہتھیاروں کا استعمال صورتحال کو مزید غیر مستحکم بنا سکتا ہے۔