ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

 ایران امریکا سفارتی پیش رفت میں اسرائیل کا کردار کمزور، نیتن یاہو پر امریکی اخبار کا طنزیہ تجزیہ

واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی یا سفارتی معاہدے کے امکانات سامنے آنے کے بعد امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے کردار پر سخت اور طنزیہ انداز میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے  کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ان کا اثر و رسوخ پہلے کی نسبت نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ایک وقت تھا جب بنیامین نیتن یاہو ایران کے معاملے پر امریکی قیادت کے ساتھ قریبی ہم آہنگی رکھتے تھے اور انہیں اکثر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پالیسی سازی میں “کوپائلٹ” کے طور پر دیکھا جاتا تھا، موجودہ حالات میں وہ کردار تبدیل ہو کر محض ایک “مسافر” تک محدود رہ گیا ہے۔

امریکی اخبار کے تجزیے میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اسرائیل کو مرکزی فیصلوں سے دور رکھا جا رہا ہے جبکہ واشنگٹن براہِ راست مذاکراتی عمل کو ترجیح دے رہا ہے، اس پیش رفت نے تل ابیب کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ وہ ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں کلیدی کردار چاہتا ہے۔

تجزیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق انہیں مذاکراتی عمل سے باہر کیے جانے کے بعد ایران سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف سفارتی ذرائع، علاقائی روابط اور غیر رسمی چینلز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جو ان کے لیے ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ماضی میں ایران کے خلاف مشترکہ عسکری کارروائیوں پر غور کیا جاتا رہا اور ایک موقع پر امریکی قیادت کے ساتھ سیچویشن روم میں ممکنہ کارروائیوں پر بات چیت بھی ہوئی تھی، اب سفارتی صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق موجودہ سفارتی تبدیلیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے، جہاں امریکا ایران مذاکرات کو براہِ راست آگے بڑھا رہا ہے جبکہ اسرائیل کا کردار نسبتاً محدود ہوتا جا رہا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں