اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین مرتبہ اضافہ اور دو مرتبہ کمی کی گئی، حالیہ معمولی کمیوں کے باوجود شہری اب بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 400 روپے فی لیٹر سے زائد قیمت پر خریدنے پر مجبور ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ایک ماہ کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 61 روپے 16 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جبکہ بعد ازاں صرف 11 روپے 80 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی۔ اس طرح تمام کمیوں کے باوجود ہائی اسپیڈ ڈیزل اب بھی 49 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافے کے ساتھ فروخت ہو رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے باعث ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ سبزی، پھل، آٹا، گھی اور دیگر ضروری اشیا بھی مزید مہنگی ہو چکی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے اچانک بڑی قیمت بڑھاتی ہے اور پھر چند روپے کمی کرکے عوام کو ریلیف دینے کا تاثر دیتی ہے۔
متعدد شہریوں نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو ’’پاگل بنانے‘‘ کی کوشش کر رہی ہے،مہینے میں تین مرتبہ بے پناہ اضافہ کرنے کے بعد دو مرتبہ معمولی کمی کر کے یہ ظاہر کیا جاتا ہے جیسے عوام پر بڑا احسان کیا گیا ہو حالانکہ حقیقت میں عام آدمی کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تنخواہیں وہی ہیں لیکن پیٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، اب موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانا بھی غریب آدمی کے لیے مشکل بنتا جا رہا ہے جبکہ متوسط طبقہ بھی شدید مالی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
کئی شہریوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ہر پندرہ دن بعد پیٹرول بم گرا دیتی ہے، جس کے بعد پورا بازار مہنگا ہو جاتا ہے، اگر قیمتوں میں واقعی ریلیف دینا مقصود ہے تو مستقل اور نمایاں کمی کی جائے، نہ کہ چند روپے کم کر کے عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جائے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ ملکی مہنگائی میں مزید شدت پیدا کر رہا ہے اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہری اٹھا رہا ہے، جو پہلے ہی بڑھتے ہوئے اخراجات اور کم آمدنی کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔