اسلام آباد: گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ملک کے قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کے لیے اہم اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہناہ ے کہ پاکستان کے پہاڑ، ساحل اور دلکش مناظر سیاحت اور سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ 3 برس سے سیاحتی شعبے کی بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ٹھوس حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ صرف 18 ماہ کے قلیل عرصے میں 78 سیاحتی مقامات کے معاہدے طے پائے ہیں جن میں سے 15 مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے۔
سلام پاکستان مہم کے ذریعے پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مواقع کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا ہے۔ 2024 سے پائیدار سیاحت فورم کے باقاعدہ انعقاد سے سیاحت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو فروغ مل رہا ہے جس سے ملکی معیشت کو بڑی تقویت مل رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 126 ممالک سے آنے والے بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ویزے کی فراہمی میں غیر معمولی سہولتیں پیدا کی گئی ہیں۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2025 میں پاکستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
غیر ملکی سیاحوں کی یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 8202 فیصد زیادہ ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی 2025 میں گلگت بلتستان کو دنیا کے سرفہرست 25 بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کیا ہے جو ملک کے لیے اعزاز ہے۔
گرین ٹورزم پاکستان کے تحت سرکاری اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے سیاحتی سہولیات اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا مقصد پاکستان کے قدرتی وسائل کو پائیدار بنیادوں پر استعمال میں لا کر ملکی معیشت میں سیاحت کا کردار مزید بڑھانا ہے۔
ان اقدامات سے پاکستان عالمی سطح پر ایک پرکشش سیاحتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر انفرا اسٹرکچر اور حکومتی سرپرستی سے پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں مستقبل قریب میں مزید اضافہ متوقع ہے جس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔