واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست وسکونسن میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران سخت تلخ کلامی کے بعد گفتگو اچانک ختم کر دی اور سیٹ سے اٹھ کر چلے گئے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ کسانوں کی ایک تقریب کے دوران این بی سی نیوز کے پروگرام کے دوران پیش آیا۔
انٹرویو کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب میزبان کرسٹن ویلکر نے صدر ٹرمپ سے صدارتی انتخابات اور کیلیفورنیا پرائمری میں دھاندلی کے الزامات پر ثبوت طلب کیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ثبوت دینے کے بجائے کہا کہ ان کا ذاتی مشاہدہ ہی کافی ہے۔
میزبان نے جب دوبارہ ٹھوس شواہد کی مانگ کی تو ڈونلڈ ٹرمپ برہم ہو گئے اور میڈیا کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے اینکر پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یا تو آپ بے وقوف ہیں یا پھر بدعنوان ہیں، اور یہ کہہ کر انٹرویو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بارش اور تکنیکی خرابیوں کے باوجود یہ گفتگو تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اب بہت ہو چکا ہے اور وہ مزید وقت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے میڈیا کو اپنی صحافتی روش اور رویہ درست کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
گفتگو کے دوران ایران کے ساتھ کشیدگی، امریکی خارجہ پالیسی اور 6 جنوری کے کیپٹل ہل واقعات جیسے حساس موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنا ہے۔
بعد ازاں میزبان کرسٹن ویلکر نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے دوبارہ رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں نے انٹرویو کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا اعتراف کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مستقبل میں پروگرام کو دوبارہ انٹرویو دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے کشیدگی کچھ کم ہوئی۔
واضح رہے کہ امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ اور مرکزی میڈیا اداروں کے درمیان تعلقات کافی عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں۔
صدر ٹرمپ اکثر میڈیا پر غیر منصفانہ رپورٹنگ اور جانبداری کے الزامات لگاتے رہے ہیں، جبکہ میڈیا ادارے اپنی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔